رواداری

21 05 2008


اگر ایک ہی شے کو ایک شخص سیاہ کئے۔ دوسرا سپید، تیسرا زرد اور چوتھا سرخ، تو ممکن نہیں ہے کہ یہ چاروں معاً سچے ہوں۔ اگر ایک ہی فعل کو ایک برا کہتا ہے اور دوسرا اچھا، ایک اس سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کا حکم دیتا ہے تو کسی طرح ممکن نہیں کہ دونوں کی رائے صحیح ہو، دونوں برحق ہوں اور دونوں امرونہی کا کھلا ہوا اختلاف رکھنے کے باوجود اپنے حکم میں درست ہوں۔ جو شخص ایسے متضاد اقوال کی تصدیق کرتا ہے اور ایسے متضاد احکام کو برحق قراردیتا ہے اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہوگا۔ یا تو وہ سب کو خوش کرنا چاہتا ہے، یا اس نے اس مسئلہ پر سرے سے غور ہی نہیں کیا اور بے سوچے سمجھے رائے ظاہر کردی۔ بہرحال دونوں صورتیں عقل اور صداقت کے خلاف ہیں اور سی دانشمند اور حق پسند انسان کے لئے یہ زیبا نہیں کہ کسی وجہ سے بھی مختلف الخیال لوگوں کی تصدیق کرے۔





آزادی کا اسلامی تصور

21 05 2008


آزادی کا اسلامی تصور
ایک صاحب تحریرفرماتے ہیں:۔
”سورہ احزاب میں حضرت زید بن حارثہ اورحضرت زینب رضی اللہ عنہماکا جو واقعہ بیان ہواہے اس کے سلسلہ میں ایک اہم شبہ پیداہوتاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید سے فرمایا امسک علیک زوجک واتق اللہ (احزاب 37) (اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر) مگر حضرت زیدؓ نے اس حکم نبوی کی خلاف ورزی کی اور حضرت زینب کو طلاق دے دی۔ اس فعل کے خلاف حکم ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں اورقرآن کے انداز بیان میں صراحتہً یا کنایتہً ایسی کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی جس سے ظاہرہوتاہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زید کی اس سرتابی کو ادنیٰ درجہ بھی ناپسند کیاہو‘ بلکہ بیان واقعہ کی ابتدا میں ان کا ذکرللّذی انعم اللہ علیہ (احزاب 37) (جس پر اللہ نے انعام کیا) کے ساتھ کیاگیاہے۔ اس سے شبہ پیدا ہوتاہے کہ نبی کے حکم کی خلاف ورزی بھی کی جاسکتی ہے اور نبی کا قول اگر ثابت بھی ہوجائے کہ نبی ہی کاقول ہے تب بھی وہ اس طرح واجب الاطاعت نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان واجب الاطاعت ہےِِ“۔





ہدایت و ضلالت کا راز

21 05 2008


کچھ مدت ہوئی کہ اسلام کے متعلق مسٹر جارج برناڈشا کے خیالات جرائد میں شائع ہوئے تھے۔ حال میں جب انہوں نے مشرق کا سفر کیا تو اس کے دوران میں سنگار پور کے عربی اخبار ”الہدیٰ“ کا نامہ نگار ان سے ملا اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پھر ایک مرتبہ اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آزادی اور دستوری و ذہنی حریت کا دین ہے۔ اجتماعی نقطہ نظر سے مسیحیت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کسی مذہب کا نظامِ اجتماعی اتنا مکمل نہیں ہے۔ جتنا السام کا نظام ہے دنیائے اسلام کا تنزل اسلام سے دور ہٹ جانے کی بدولت ہے۔ مسلمان جب صرف اسلام کی بنیادوں پر جدوجہد کریں گے تو عالمِ اسلامی کا خواب‘ بیداری سے بدل جائے گا۔

< – - – Read More From This Article

 





عقل کا فیصلہ

18 05 2008

بڑے بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں کارخانے بجلی کی قوت سے چل رہے ہیں۔ ریلیں اور ٹرام گاڑیاں رواں دواں ہیں۔ شام کے وقت دفعتہً ہزاروں قمقمے روشن ہوجاتے ہیں۔ گرمی کے زمانہ میں گھر گھر پنکھے چلتے ہیں۔ مگر ان واقعات سے نہ تو ہمارے اندر حیرت و استعجاب کی کوئی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور نہ ان چیزوں کے روشن یا متحرک ہونے کی علت میں کسی قسم کا اختلاف ہمارے درمیان واقع ہوتا ہے اور نہ ان چیزوں کے روشن یا متحرک ہونے کی علت میں کسی قسم کا اختلاف ہمارے درمیان واقع ہوتا ہے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ ان قمقموں کا تعلق جن تاروں سے ہے ان کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ان تاروں کا تعلق جس بجلی گھر سے ہے اس کا حال بھی ہم کو معلوم ہے۔ اس بجلی گھر میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے وجود کا بھی ہم کو علم ہے۔ ان کام کرنے والوں پر جو انجینئر نگرانی کررہا ہے اس کو بھی ہم جانتے ہیں۔ ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انجینئر بجلی بنانے کے کامسے واقف ہے‘ اس کے پاس بہت سی کلیں ہیں اور ان کلوں کو حرکت دے کر وہ اس قوت کو پیدا کررہا ہے جس کے جلوے ہم کو قمقموں کی روشنی پنکھوں کی گردش، ریلوں اور ٹرام گاڑیوں کی سیر چکیوں اور کارخانوں میں نظر آتے ہیں پس بجلی کے آثار کو دیکھ کر اس کے اسباب کے متعلق ہمارے درمیان اختلاف رائے واقع نہ ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان اسباب کا پورا سلسلہ ہمارے محسوسات میں داخل ہے اور ہم اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔

< – - – Read More From This Article

 

 

 

 

 

 

 





لارڈ لو تھین کا خطبہ

12 05 2008


جنوری کے آخری ہفتہ میں علی گڑھ یونیورسٹی کا کانووکیشن (جلسہ تقسیم اسناد) کے موقع پر لارڈ لو تھین نے جو خطبہ دیا ہے، وہ درحقیقت اس قابل ہے کہ ہندوستان کے تعلیم یافتہ (جدید اور قدیم دونوں) اس کو گہری نظر سے دیکھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔ اس خطبہ میں ایک ایسا آدمی ہمارے سامنے اپنے دل و دماغ کے پردے کھول رہا ہے جس نے علوم جدیدہ اور ان کی پیدا کردہ تہذیب کو دور سے نہیں دیکھا ہے بلکہ خود اس تہذیب کی آغوش میں جنم لیا ہے اور اپنی زندگی کے
۶۵ سال اسی سمندر کی غواصی میں گزارے ہیں۔ وہ پیدائشی اور خاندانی یورپین ہے، آکسفورڈ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ”راﺅنڈ ٹیبل“ جیسے مشہور رسالے کا ایڈیٹر رہ چکا ہے اور قریب قریب ۱۲سال سے سلطنت برطانیہ کے مہمات امور میں ذمہ دارانہ حصہ لیتا ہے۔ وہ کوئی بیرونی ناظر نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب کے اپنے گھر کا آدمی ہے اور وہ ہم سے بیان کرتا ہے کہ اس گھر میں اصل خرابیاں کیا ہیں، کس وجہ سے ہیں اور اس کے گھر کے لوگ اس وقت درحقیقت کس چیز کے پیاسے ہورہے ہیں۔





مسلمانوں کے لیے جدید تعلیمی پالیسی اور لائحہ عمل

12 05 2008


یہ وہ نوٹ ہیں جو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی مجلس اصلاح نصاب دینیات کے استفسارات کے جواب میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس میں خطاب بظاہر مسلم علی گڑھ یونیورسٹی سے ہے۔ لیکن دراصل اس کے مخاطب مسلمانوں کے تمام تعلیمی ادارت ہیں۔ جس تعلیمی پالیسی کی توضیع اس نوٹ میں کی گئی ہے۔ اسے اختیار کرنا مسلمانوں کے لیے ناگزیر ہے۔ علی گڑھ ہویا دیوبند‘ یا ندوہ یا جامعہ ملیہ اب کا طریقہ کار اب زائد المعیاد ہوچکا ہے۔ اگر یہ اس پر نظرثانی نہ کریں گے تو اپنی افادیت بالکل کھو دیں گے۔





کیش مرداں نہ کہ مذہب گوسفنداں

12 05 2008

کیش مرداں نہ کہ مذہب گوسفنداں

مسئلہ سود پر میرے مضامین کو دیکھ کر ایک خیال کا بار بار اظہار کیا گیا ہے کہ ”موجودہ زمانہ مین سرمایہ داری نظام‘ سیاسی طاقت کے ساتھ ہمارے گردوپیش کی پوری معاشی دنیا پرمسلط ہوچکا ہے۔ معیشت کی گاڑی اصول سرمایہ داری کے پہیوں پر چل رہی ہے۔ سرمایہ دار ہی اس کو چلا رہے اور وہی قومیں اس کے ذریعہ سے منزل ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ جن کے لیے پیدائش دولت اورصرف دولت کے باب میں کوئی مذہبی یا اخلاقی قید نہیں ہے۔ دوسری طرف ہماری اجتماعی قوت منتشر ہے۔ دنیا کے نظم معیشت کو بدلنا تو درکنا ہم خود اپنی قوم میں بھی اسلامی نظم معیشت کو از سر نو قائم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اب اگر ہماری مذہبی قیود ہم کو زمانے کے چلتے ہوئے نظام معاشی میں پورا پورا حصہ لینے سے روک دیں تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ ہماری قومی معاشی ترقی و خوشحالی کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ جائے گی۔ ہم مفلس ہوتے جائیں گے اور ہمسایہ قومیں دولت مند ہوتی چلی جائیں گے۔ پھر ہماری یہ معاشی کمزوری ہم کو سیاسی‘ اخلاقی اور تمدنی حیثیت سے بھی ذلیل اور پست کرے گی۔ یہ محض وہم اور اندیشہ نہیں ہے بلکہ واقعات کی دنیا مین یہی نتیجہ ہم کو نظر آرہا ہے۔ برسوں سے نظر آرہا ہے اور مستقبل میں ہمارا جو کچھ انجام ہونے والا ہے اس کے آثار کچھ ایسے دھندلے نہیں ہیں۔ کہ ان کونہ دیکھا جاسکتا ہو۔ پس ہم کو محض شریعت کا قانون بتانے سے کیا فائدہ؟ اسلام کے معاشی اصول بیان کرنے سے کیا حاصل؟ ہم کو یہ بتاﺅ کہ ان حالات میں اسلامی قانون کی پابندی کے ساتھ ہمارے لیے اپنی معاشی حالت کو سنھبالنے اور ترقی کی منزلیں طے کرنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟ اگر نہیں ہے تو دو صورتوں میں سے ایک صورت یقیناً پیش آئے گی۔ یا تو مسلمان بالکل تباہ ہوجائیں گے۔ یا پھر وہ بھی دوسری قوموں کی طرح مجبور ہوں گے کہ ایسے تمام قوانین کی پابندی سے آزاد ہوجائیں جو زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

< – - – Read More From This Article





مسلمان کی طاقت کا اصلی منبع

12 05 2008

مسلمان کی طاقت کا اصلی منبع

دوسری صدری ہجری کی ابتداءکا واقعہ ہے کہ سجستان درحج کے فرماں رواں نے جس کا خاندانہ لقب رتبیل تھا بنی امیہ کے عمال کو خراج دینا بند کردیا۔ پیہم چڑھائیاں کی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔ یزید بن عبدالمالک اموی کے عہد میں جب اس کے پاس طلب خراج کے لےے سفارت بھیجی گئی تو اس سے مسلمانوں کے سفراءسے دریافت کیا:

وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے؟ ان کے پیٹ فاقہ زدوں کی طرح پٹخے ہوئے ہوتے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ گٹے پڑے رہتے تھے اور کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے

اگرچہ تمہاری صوررتیں ان سے زیادہ شاندار ہیں‘ مگر وہ تم سے زیادہ عہد کے پابند تھے تم سے زیادہ طاقتور تھے“

مورخ لکھتا ہے کہ یہ کہ کر رتبیل نے خراج ادا کرنے سے انکار کردیا اور تقریباً نصف صدی تک اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔

< – - – Read More From This Article





مسلمان کا حقیقی مفہوم

12 05 2008

مسلمان کا حقیقی مفہوم

ہماری روزمرہ کی بول چال میں بعض ایسے الفاظ اور فقرے رائج ہیں جن کو بولتا تو ہر شخص ہے‘ مگر سمجھتے بہت کم ہیں۔ کثرت استعمال نے ان کا ایک اجمالی مفہوم لوگوں کے ذہن نشین کردیا ہے۔ بولنے والا جب ان الفاظ کو زبان سے نکالتا ہے تو وہی مفہوم مراد لیتا ہے ۔اور سننے والا جب انہیں سنتا ہے تو اسی مفہوم کو سمجھتا ہے۔ لیکن وہ گہرے معانی جن کے لیے وضع نے ان الفاظ کو واضح کیا تھا‘ جہلاءتو درکنار اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہوتے۔

مثال کے طور پر ”اسلام“ اور ”مسلمان“ کو لیجئے۔ کس قدر کثرت سے یہ الفاظ بولے جاتے ہیں اور کتنی ہمہ گیری کے ساتھ انہوں نے ہماری زبانوں پر قبضہ کرلیا ہے؟ مگر کتنے بولنے والے ہیں جو ان کو سوچ سمجھ کر بولتے ہیں؟ اور کتنے سننے والے ہیں جو انہیں سن کر وہی مفہوم سمجھتے ہیں جس کے لیے یہ الفاظ وضع کیے گئے تھے؟غیرمسلموں کو جانے دیجئے۔ خود مسلمانوں میں 99 فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ”مسلمان“ کہتے ہیں اور اپنے مذہب کو اسلام کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیںمگر نہیں جانتے کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور ”لفظ اسلام“ کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ آیئے تھوڑا سا وقت ہم انہی الفاظ کی تشریح میں صرف کریں۔

< – - – Read More From This Article





ایمان اور اطاعت

12 05 2008

ایمان اور اطاعت

اجتماعی نظم خواہ وہ کسی نوعیت کا ہو اور کسی غرض و غایت کے لیے ہو۔ اپنے قیام واستحکام اور اپنی کامیابی کے لیے دو چیزوں کا ہمیشہ محتاج ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ جن اصولوں پر کسی جماعت کی تنظیم کی گئی ہو وہ اس پوری جماعت اور اس کے ہر فرد کے دل ودماغ میں خوب بیٹھے ہوئے ہوں اور جماعت کا ہر فرد ان کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا ہو۔ دوسرے یہ کہ جماعت میں سمع واطاعت کا مادہ موجود ہو ‘ یعنی اس نے جس کسی کو اپنا صاحب امر تسلیم کیا ہو۔ اس کے احکام کی پوری طرح اطاعت کرے‘ اس کے مقررہ کیے ہوئے ضوابط کی سختی کے ساتھ پابند رہے۔ اور اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ یہ ہر نظام کی کامیابی کے لیے ناگزیر شرطیں ہیں۔ کوئی نظام خواہ وہ نظام عسکری ہو یا نظام سیاسی ‘ یا نظام عمرانی‘ یا نظام دینی ان دونوں شرطوں کے بغیر نہ قائم ہوسکتا ہے ‘ نہ باقی رہ سکتا ہے اور نہ اپنے مقصد کو پہنچ سکتا ہے۔

< – - – Read More From This Article