ماہ جون 33ءکے ”نگار“ میں حضرت نیاز فتح پوری نے ”ترجمان القرآن“ پرایک مفصل تبصرہ فرمایاہے جس کی لئے میں ان کا شکرگزارہوں۔ اگرچہ عموماً رسائل وجرائد کے انتقادات پر بحث کرنے اور ان پر جوابی نقدکرنے کا دستورنہیں ہے لیکن چونکہ ناقد فاضل نے اپنے تبصرہ میں ایسے خیالات کا اظہارکیاہے جو ان کے مذہب تجددکے مخصوص اصولوں ومبادی سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کی اصلاح کرنا”ترجمان القرآن“ کے اولین مقاصد میں سے ہے‘ اس لئے میں ضروری سمجھتاہوں کہ ان پر اظہارخیال کے پہلے موقع سے فائدہ اٹھاﺅں۔