عقلیت کا فریب

11 05 2008

عقلیت کا فریب

 اسلامی تعلیم وتربیت کے لحاظ سے نیم پختہ یا بالکل خام نوجوان کے مذہبی خیالات پر مغربی تعلیم اور تہذیب کا جو اثر ہوتا ہے اس کا اندازہ ان تحریروں اور تقریروں سے ہوسکتا ہے جو اس قسم کے لوگوں کی زبان وقلم سے آئے دن نکلتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں صوبہ متحدہ کے ایک مسلمان گریجویٹ صاحب کا ایک مضمون ہماری نظر سے گزرا ۔ جس میں انہوں نے اپنی سیاحت چین وجاپان کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :۔

ہمارے ساتھ جو چینی مسافر ہیں وہ انتہا کے بلانوش اور شراب خور ہیں۔ سور کا گوشت تو ان کی جان ہے۔ اب میں نے عسائیت کی ترقی کا راز سمجھا‘ چینی اب قدیم مذہب کی پیروی کو نئی تعلیم کے ساتھ عار پاتا ہے۔ اس کو اسلام قبول کرنے میں تامل نہ ہوتا اگر وہ اس کو سمجھا ہوگا مگر اسلام کو اس کی تمام مرغوب عذاﺅں سے محروم کردیتا ہے۔ چارو ناچار عیسائی ہوجاتا ہے۔ کچھ عجیب نہیں کہ آئندہ چین کا سرکاری مذہب عیسائیت ہوجائے۔ میں سور کے گوشت کے معاملہ میں اہل یورپ اور اہل چین کے نو مسلموں کے ساتھ ذرا ڈھیل دینا پسند کرتا ہوں قرآن سے بھی مجھے اس کے قطعی حرام ہونے میں شک ہے۔ زیادہ بریں نیست کہ اہل عرب کے لیے کسی خاص وجہ سے حرام کردیا گیا ہو۔ مگر ایسے ممالک جہاں ان کے بغیر (فمن اضطر غیر باغ ولاعاد) ہوجائے تو کیا ہرج ہے۔؟

< – - – Read More From This Article


Actions

Information

Leave a comment