ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب

11 05 2008

ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب

حکومت و فرمانروائی اور غلبہ و استیلا کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ذہنی اور اخلاقی غلبہ، دوسرا سیاسی اور مادی غلبہ۔ یہ ہے کہ ایک قوم اپنی فکری قوتوں میں اتنی ترقی کر جائے کہ دوسری قومیں اسی کے افکار پر ایمان لے آئیں، اسی کے تخیلات، اسی کے معتقدات، اسی کے نظریات دماغوں پر چھا جائیں، ذہنیتیں اسی کے سانچے میں ڈھلیں، تہذیب اسی کے تہذیب ہو، علم اسی کا علم ہو، اسی کی تحقیق کو تحقیق سمجھا جائے اور ہر وہ چیز باطل ٹھہرائی جائے جس کو وہ باطل ٹھہرائے۔ دوسری قسم کا غلبہ یہ ہے کہ ایک قوم اپنی مادی طاقتوں کے اعتبار سے اتنی قوی بازو ہوجائے کہ دوسری قومیں اس کے مقابلہ میں اپنی سیاسی و معاشی آزادی کو برقرار نہ رکھ سکیں اور کلی طور پر یا کسی نہ کسی حد تک وہ غیر قوموں کے وسائل ثروت پر قابض اور ان کے نظم مملکت پر حاوی ہوجائے۔ اس کے مقابلہ میں مغلوبیت اور محکومیت کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک ذہنی مغلوبیت، دوسری سیاسی مغلوبیت۔

 < – - – Read More From This Article 


Actions

Information

Leave a comment