یہ وہ نوٹ ہیں جو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی مجلس اصلاح نصاب دینیات کے استفسارات کے جواب میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس میں خطاب بظاہر مسلم علی گڑھ یونیورسٹی سے ہے۔ لیکن دراصل اس کے مخاطب مسلمانوں کے تمام تعلیمی ادارت ہیں۔ جس تعلیمی پالیسی کی توضیع اس نوٹ میں کی گئی ہے۔ اسے اختیار کرنا مسلمانوں کے لیے ناگزیر ہے۔ علی گڑھ ہویا دیوبند‘ یا ندوہ یا جامعہ ملیہ اب کا طریقہ کار اب زائد المعیاد ہوچکا ہے۔ اگر یہ اس پر نظرثانی نہ کریں گے تو اپنی افادیت بالکل کھو دیں گے۔