ہماری روزمرہ کی بول چال میں بعض ایسے الفاظ اور فقرے رائج ہیں جن کو بولتا تو ہر شخص ہے‘ مگر سمجھتے بہت کم ہیں۔ کثرت استعمال نے ان کا ایک اجمالی مفہوم لوگوں کے ذہن نشین کردیا ہے۔ بولنے والا جب ان الفاظ کو زبان سے نکالتا ہے تو وہی مفہوم مراد لیتا ہے ۔اور سننے والا جب انہیں سنتا ہے تو اسی مفہوم کو سمجھتا ہے۔ لیکن وہ گہرے معانی جن کے لیے وضع نے ان الفاظ کو واضح کیا تھا‘ جہلاءتو درکنار اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہوتے۔
مثال کے طور پر ”اسلام“ اور ”مسلمان“ کو لیجئے۔ کس قدر کثرت سے یہ الفاظ بولے جاتے ہیں اور کتنی ہمہ گیری کے ساتھ انہوں نے ہماری زبانوں پر قبضہ کرلیا ہے؟ مگر کتنے بولنے والے ہیں جو ان کو سوچ سمجھ کر بولتے ہیں؟ اور کتنے سننے والے ہیں جو انہیں سن کر وہی مفہوم سمجھتے ہیں جس کے لیے یہ الفاظ وضع کیے گئے تھے؟غیرمسلموں کو جانے دیجئے۔ خود مسلمانوں میں 99 فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ”مسلمان“ کہتے ہیں اور اپنے مذہب کو اسلام کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیںمگر نہیں جانتے کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور ”لفظ اسلام“ کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ آیئے تھوڑا سا وقت ہم انہی الفاظ کی تشریح میں صرف کریں۔