دوسری صدری ہجری کی ابتداءکا واقعہ ہے کہ سجستان درحج کے فرماں رواں نے جس کا خاندانہ لقب رتبیل تھا بنی امیہ کے عمال کو خراج دینا بند کردیا۔ پیہم چڑھائیاں کی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔ یزید بن عبدالمالک اموی کے عہد میں جب اس کے پاس طلب خراج کے لےے سفارت بھیجی گئی تو اس سے مسلمانوں کے سفراءسے دریافت کیا:
”وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے؟ ان کے پیٹ فاقہ زدوں کی طرح پٹخے ہوئے ہوتے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ گٹے پڑے رہتے تھے اور کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے“
”اگرچہ تمہاری صوررتیں ان سے زیادہ شاندار ہیں‘ مگر وہ تم سے زیادہ عہد کے پابند تھے تم سے زیادہ طاقتور تھے“
مورخ لکھتا ہے کہ یہ کہ کر رتبیل نے خراج ادا کرنے سے انکار کردیا اور تقریباً نصف صدی تک اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔