کیش مرداں نہ کہ مذہب گوسفنداں

12 05 2008

کیش مرداں نہ کہ مذہب گوسفنداں

مسئلہ سود پر میرے مضامین کو دیکھ کر ایک خیال کا بار بار اظہار کیا گیا ہے کہ ”موجودہ زمانہ مین سرمایہ داری نظام‘ سیاسی طاقت کے ساتھ ہمارے گردوپیش کی پوری معاشی دنیا پرمسلط ہوچکا ہے۔ معیشت کی گاڑی اصول سرمایہ داری کے پہیوں پر چل رہی ہے۔ سرمایہ دار ہی اس کو چلا رہے اور وہی قومیں اس کے ذریعہ سے منزل ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ جن کے لیے پیدائش دولت اورصرف دولت کے باب میں کوئی مذہبی یا اخلاقی قید نہیں ہے۔ دوسری طرف ہماری اجتماعی قوت منتشر ہے۔ دنیا کے نظم معیشت کو بدلنا تو درکنا ہم خود اپنی قوم میں بھی اسلامی نظم معیشت کو از سر نو قائم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اب اگر ہماری مذہبی قیود ہم کو زمانے کے چلتے ہوئے نظام معاشی میں پورا پورا حصہ لینے سے روک دیں تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ ہماری قومی معاشی ترقی و خوشحالی کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ جائے گی۔ ہم مفلس ہوتے جائیں گے اور ہمسایہ قومیں دولت مند ہوتی چلی جائیں گے۔ پھر ہماری یہ معاشی کمزوری ہم کو سیاسی‘ اخلاقی اور تمدنی حیثیت سے بھی ذلیل اور پست کرے گی۔ یہ محض وہم اور اندیشہ نہیں ہے بلکہ واقعات کی دنیا مین یہی نتیجہ ہم کو نظر آرہا ہے۔ برسوں سے نظر آرہا ہے اور مستقبل میں ہمارا جو کچھ انجام ہونے والا ہے اس کے آثار کچھ ایسے دھندلے نہیں ہیں۔ کہ ان کونہ دیکھا جاسکتا ہو۔ پس ہم کو محض شریعت کا قانون بتانے سے کیا فائدہ؟ اسلام کے معاشی اصول بیان کرنے سے کیا حاصل؟ ہم کو یہ بتاﺅ کہ ان حالات میں اسلامی قانون کی پابندی کے ساتھ ہمارے لیے اپنی معاشی حالت کو سنھبالنے اور ترقی کی منزلیں طے کرنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟ اگر نہیں ہے تو دو صورتوں میں سے ایک صورت یقیناً پیش آئے گی۔ یا تو مسلمان بالکل تباہ ہوجائیں گے۔ یا پھر وہ بھی دوسری قوموں کی طرح مجبور ہوں گے کہ ایسے تمام قوانین کی پابندی سے آزاد ہوجائیں جو زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

< – - – Read More From This Article


Actions

Information

Leave a comment