ہمارے نظام تعلیم کا بنیادی نقص

12 05 2008

ہمارے نظام تعلیم کا بنیادی نقص

مسلم یونیورسٹی کورٹ نے اپنے گزشتہ سالانہ اجلاس (منعقدہ اپریل 1936ئ) میں ایک ایسے اہم مسئلہ کی طرف توجہ کی ہے جو ایک عرصہ سے توجہ کا محتاج تھا‘ یعنی دینیات اور علوم اسلامیہ کے ناقص طرز تعلیم کی اصلاح اور یونیورسٹی کے طلباءمیں حقیقی اسلامی اسپرٹ پیدا کرنے کی ضرورت‘ جہاں تک جدید علوم و فنون اور ادبیات کی تعلیم کا تعلق ہے حکومت کی قائم کی ہوئی یونیورسٹیوں میں اس کا بہتر سے بہتر انتظام موجود ہے۔ کم از کم اتنا ہی بہتر جتنا خود علی گڑھ میں ہے۔ محض اس غرض کے لئے مسلمانوں کو اپنی ایک الگ یونیورسٹی قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ ایک مستقل قومی یونیورسٹی قائم کرنے کا تخیل جس بنا پر مسلمانوں میں پیدا ہوا اور جس بنا پر اس تخیل کو مقبولیت حاصل ہوئی وہ صرف یہ کہ مسلمان جدید علوم سے استفادہ کرنے کے ساتھ ”مسلمان“ بھی رہنما چاہتے ہیں۔ یہ غرض سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں سے پوری نہیں ہوتی۔ اسی کے لئے مسلمانوں کو اپنی ایک اسلامی یونیورسٹی کی ضرورت ہے۔ اگر ان کی اپنی یونیورسٹی بھی یہ غرض پوری نہ کرے‘ اگر وہاں سے بھی ویسے ہی گریجویٹ نکلیں جیسے سرکاری یونیورسٹیوں سے نکلتے ہیں‘ اگر وہاں بھی محض دیسی ”صاحب لوگ“ یا ہندی وطن پرست یا اشتراکی ملاحدہ ہی پیدا ہوں‘ تو لاکھوں روپیہ کے صرف سے ایک یونیورسٹی قائم کرنے اور چلانے کی کون سی خاص ضرورت ہے۔


افعال

Information

Leave a comment