اجتماعی نظم خواہ وہ کسی نوعیت کا ہو اور کسی غرض و غایت کے لیے ہو۔ اپنے قیام واستحکام اور اپنی کامیابی کے لیے دو چیزوں کا ہمیشہ محتاج ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ جن اصولوں پر کسی جماعت کی تنظیم کی گئی ہو وہ اس پوری جماعت اور اس کے ہر فرد کے دل ودماغ میں خوب بیٹھے ہوئے ہوں اور جماعت کا ہر فرد ان کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا ہو۔ دوسرے یہ کہ جماعت میں سمع واطاعت کا مادہ موجود ہو ‘ یعنی اس نے جس کسی کو اپنا صاحب امر تسلیم کیا ہو۔ اس کے احکام کی پوری طرح اطاعت کرے‘ اس کے مقررہ کیے ہوئے ضوابط کی سختی کے ساتھ پابند رہے۔ اور اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ یہ ہر نظام کی کامیابی کے لیے ناگزیر شرطیں ہیں۔ کوئی نظام خواہ وہ نظام عسکری ہو یا نظام سیاسی ‘ یا نظام عمرانی‘ یا نظام دینی ان دونوں شرطوں کے بغیر نہ قائم ہوسکتا ہے ‘ نہ باقی رہ سکتا ہے اور نہ اپنے مقصد کو پہنچ سکتا ہے۔
ایمان اور اطاعت
12 05 2008Comments : Leave a Comment »
Tags: ایمان, اجتماعی نظم, اطاعت, تنظیم, جماعت
Categories : Tanqeehat