جنوری کے آخری ہفتہ میں علی گڑھ یونیورسٹی کا کانووکیشن (جلسہ تقسیم اسناد) کے موقع پر لارڈ لو تھین نے جو خطبہ دیا ہے، وہ درحقیقت اس قابل ہے کہ ہندوستان کے تعلیم یافتہ (جدید اور قدیم دونوں) اس کو گہری نظر سے دیکھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔ اس خطبہ میں ایک ایسا آدمی ہمارے سامنے اپنے دل و دماغ کے پردے کھول رہا ہے جس نے علوم جدیدہ اور ان کی پیدا کردہ تہذیب کو دور سے نہیں دیکھا ہے بلکہ خود اس تہذیب کی آغوش میں جنم لیا ہے اور اپنی زندگی کے ۶۵ سال اسی سمندر کی غواصی میں گزارے ہیں۔ وہ پیدائشی اور خاندانی یورپین ہے، آکسفورڈ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ”راﺅنڈ ٹیبل“ جیسے مشہور رسالے کا ایڈیٹر رہ چکا ہے اور قریب قریب ۱۲سال سے سلطنت برطانیہ کے مہمات امور میں ذمہ دارانہ حصہ لیتا ہے۔ وہ کوئی بیرونی ناظر نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب کے اپنے گھر کا آدمی ہے اور وہ ہم سے بیان کرتا ہے کہ اس گھر میں اصل خرابیاں کیا ہیں، کس وجہ سے ہیں اور اس کے گھر کے لوگ اس وقت درحقیقت کس چیز کے پیاسے ہورہے ہیں۔
لارڈ لو تھین کا خطبہ
12 05 2008Comments : Leave a Comment »
Tags: ,سائنس, لامذہبی, مادیت, اسلامی تعلیمات, تہذیب, ترقی, عقلی تعلیم, علی گڑھ یونیورسٹی
Categories : Tanqeehat