اصلاح اور انقلاب دونوں کا مقصد کسی بگڑی ہوئی حالت کا بدلنا ہوتا ہے۔ لیکن دونوں کے محرکات اور طریق کار میں اساسی فرق ہوا کرتا ہے۔ اصلاح کی ابتداء غورو فکر سے ہوتی ہے۔ ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچ بچار کرکے انسان حالات کا جائزہ لیتا ہے۔ خرابی کے اسباب پر غور کرتا ہے۔ خرابی کے حدود کی پیمائش کرتا ہے۔ اس کے ازالہ کی تدبیریں دریافت کرتا ہے۔ اور اس کو دور کرنے کے لیے صرف اسی حد تک تخریبی قوت استعمال کرتا ہے جس حد تک اس کا استعمال ناگزیر ہو۔ بخلاف اس کے انقلاب کی ابتداءغیظ وغضب اور جوش انتقام کی گرمی سے ہوتی ہے۔ خراب کے جواب میں ایک دوسری خرابی مہیا کی جاتی ہے۔ جس بے اعتدالی سے بگاڑ پیدا ہوا تھا اس کا مقابلہ ایک دوسری بے اعتدالی سے کیا جاتا ہے۔ جو برائیوں کے ساتھ اچھائیوں کو بھی غارت کردیتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بسا اوقات ایک اصلاح پسند کو بھی وہی کرنا پڑتا ہے جو ایک انقلاب پسند کرتا ہے۔ دونوں نشتر لے کر جسم کے ماﺅف حصہ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ اصلاح پسند پہلے اندازہ کرلیتا ہے کہ خرابی کہا ہے کہ اور کتنی ہے۔ پھر نشتر کو اسی حد تک استعمال کرتا ہے جس حد تک خرابی دور کرنے کے لیے ضروری ہے اور نشتر کے ساتھ ساتھ مرہم بھی تیار رکھتا ہے۔ لیکن انقلاب پسند اپنے جوش و غضب میں انکھیں بند کرکے نشتر چلاتا ہے۔ اچھے برے کا امتیاز کیے بغیر کاٹا چلا جاتا ہے۔ اور مرہم کا خیال اگر اس کے دل میں آتا بھی ہے تو اس وقت جب خوب قطع وبرید کرلینے اور جسم کے ایک اچھے خاصے حصے کو غارت کرچکنے کے بعد اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔