مشرق ہو یامغرب‘ مسلمان ہو یاغیرمسلم‘ بلا استثنا سب ایک ہی مصیبت میں گرفتارہیں‘ اور وہ یہ ہے کہ ان پر ایک ایسی تہذیب مسلط ہوگئی ہے جس نے سراسرمادیت کے آغوش میں پرورش پائی ہے۔ اس کی حکمت نظری وحکمت عملی‘دونوں کی عمارت غلط بنیادوں پر اٹھائی گئی ہے۔ اس کا فلسفہ ‘ اس کاسائنس‘ اس کا اخلاق‘ اس کی معاشرت‘ اس کی سیاست‘ اس کاقانون ‘غرض اس کی ہرچیز ایک غلط نقطہ آغازسے چل کر ایک غلط رخ پر ترقی کرتی چلی گئی ہے اور اب اس مرلہ پر پہنچ گئی ہے۔ جہاں سے ہلاکت کی آخری منزل قریب نظرآرہی ہے۔