لارڈ لو تھین کا خطبہ

12 05 2008


جنوری کے آخری ہفتہ میں علی گڑھ یونیورسٹی کا کانووکیشن (جلسہ تقسیم اسناد) کے موقع پر لارڈ لو تھین نے جو خطبہ دیا ہے، وہ درحقیقت اس قابل ہے کہ ہندوستان کے تعلیم یافتہ (جدید اور قدیم دونوں) اس کو گہری نظر سے دیکھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔ اس خطبہ میں ایک ایسا آدمی ہمارے سامنے اپنے دل و دماغ کے پردے کھول رہا ہے جس نے علوم جدیدہ اور ان کی پیدا کردہ تہذیب کو دور سے نہیں دیکھا ہے بلکہ خود اس تہذیب کی آغوش میں جنم لیا ہے اور اپنی زندگی کے
۶۵ سال اسی سمندر کی غواصی میں گزارے ہیں۔ وہ پیدائشی اور خاندانی یورپین ہے، آکسفورڈ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ”راﺅنڈ ٹیبل“ جیسے مشہور رسالے کا ایڈیٹر رہ چکا ہے اور قریب قریب ۱۲سال سے سلطنت برطانیہ کے مہمات امور میں ذمہ دارانہ حصہ لیتا ہے۔ وہ کوئی بیرونی ناظر نہیں ہے بلکہ مغربی تہذیب کے اپنے گھر کا آدمی ہے اور وہ ہم سے بیان کرتا ہے کہ اس گھر میں اصل خرابیاں کیا ہیں، کس وجہ سے ہیں اور اس کے گھر کے لوگ اس وقت درحقیقت کس چیز کے پیاسے ہورہے ہیں۔





دورجدید کی بیمارقومیں

11 05 2008

دورجدید کی بیمارقومیں

مشرق ہو یامغرب‘ مسلمان ہو یاغیرمسلم‘ بلا استثنا سب ایک ہی مصیبت میں گرفتارہیں‘ اور وہ یہ ہے کہ ان پر ایک ایسی تہذیب مسلط ہوگئی ہے جس نے سراسرمادیت کے آغوش میں پرورش پائی ہے۔ اس کی حکمت نظری وحکمت عملی‘دونوں کی عمارت غلط بنیادوں پر اٹھائی گئی ہے۔ اس کا فلسفہ ‘ اس کاسائنس‘ اس کا اخلاق‘ اس کی معاشرت‘ اس کی سیاست‘ اس کاقانون ‘غرض اس کی ہرچیز ایک غلط نقطہ آغازسے چل کر ایک غلط رخ پر ترقی کرتی چلی گئی ہے اور اب اس مرلہ پر پہنچ گئی ہے۔ جہاں سے ہلاکت کی آخری منزل قریب نظرآرہی ہے۔

 < – - – Read More From This Article 





ہندوستان میں اسلامی تہذیب کا انحطاط

11 05 2008

دنیائے اسلام کا بیشتر حصہ ان ممالک پر مشتمل ہے جو صدر اوّل کے مجاہدین کی کوششوں سے فتح ہوئے ہیں۔ ان کو جن لوگوں \نے فتح کیا تھا وہ ملک گیری اور حصول غنائم کے لیے نہیں بلکہ خدا کے کلمہ کو دنیا میں بلند کرنے کے لیے سروں سے کفن باندھ کر نکلے تھے‘ وہ طلب دنیا کے بجائے طلب آخرت کے نشہ میں سرشار تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے مفتوحین کو مطیع و باج گزار بنانے پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہیں اسلام کے رنگ میں رنگ دیا۔ ان کی پوری آبادی یا اس کے سواداعظم کو ملت حنیفی میں جذب کرلیا علم و عمل کی قوت سے ان میں اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب کو اتنا راسخ کر دیا کہ وہ خود تہذیب اسلامی کے علمبردار اور علوم اسلامی کے معلم بن گئے۔ ان کے بعد وہ ممالک ہیں جو اگرچہ صدر اوّل کے بعد اس عہد میں فتح ہوئے جب کہ اسلامی جوش سرد ہوچکا تھا اور فاتحین کے دلوں میں خالص جہاد فی سبیل اللہ کی روح سے زیادہ ملک گیری کی ہوس نے جگہ لے لی تھی‘ لیکن اس کے باوجود اسلام وہاں پھیلنے اور جڑ پکڑ لینے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے ان ممالک میں کلیتاً ایک قومی مذہب اور قومی تہذیب کی حیثیت حاصل کرلی۔

< – - – Read More From This Article    





ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب

11 05 2008

ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب

حکومت و فرمانروائی اور غلبہ و استیلا کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ذہنی اور اخلاقی غلبہ، دوسرا سیاسی اور مادی غلبہ۔ یہ ہے کہ ایک قوم اپنی فکری قوتوں میں اتنی ترقی کر جائے کہ دوسری قومیں اسی کے افکار پر ایمان لے آئیں، اسی کے تخیلات، اسی کے معتقدات، اسی کے نظریات دماغوں پر چھا جائیں، ذہنیتیں اسی کے سانچے میں ڈھلیں، تہذیب اسی کے تہذیب ہو، علم اسی کا علم ہو، اسی کی تحقیق کو تحقیق سمجھا جائے اور ہر وہ چیز باطل ٹھہرائی جائے جس کو وہ باطل ٹھہرائے۔ دوسری قسم کا غلبہ یہ ہے کہ ایک قوم اپنی مادی طاقتوں کے اعتبار سے اتنی قوی بازو ہوجائے کہ دوسری قومیں اس کے مقابلہ میں اپنی سیاسی و معاشی آزادی کو برقرار نہ رکھ سکیں اور کلی طور پر یا کسی نہ کسی حد تک وہ غیر قوموں کے وسائل ثروت پر قابض اور ان کے نظم مملکت پر حاوی ہوجائے۔ اس کے مقابلہ میں مغلوبیت اور محکومیت کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک ذہنی مغلوبیت، دوسری سیاسی مغلوبیت۔

 < – - – Read More From This Article