قوم دو طبقوں پر مشتمل ہوا کرتی ہے۔ اک طبقہ عوام‘ دوسرا طبقہ خواص۔ طبقہ عوام اگرچہ کثیر التعداد ہوتا ہے اور قوم کی عددی قوت اسی طبقہ پر مبنی ہوتی ہے لیکن سوچنے اور رہنمائی کرنے والے دماغ اس گروہ میں نہیں ہوتے۔ نہ یہ لوگ علم سے بہرہ ور ہوتے ہیں‘ نہ ان کے پاس مالی قوت ہوتی ہے‘ نہ یہ جاہ و منزلت رکھتے ہیں‘ نہ حکومت کا اقتدار ان کے ہاتھوں میں ہوتا ہے‘ اس لیے قوم کو چلانا ان لوگوں کا کام نہیں ہوتا بلکہ محض چلانے والوں کے پیچھے چلنا ان کا کام ہوتا ہے۔ یہ خود راہیں بنانے اور نکالنے والے نہیں ہوتے بلکہ جو راہیں ان کے لیے بنا دی جاتی ہیں‘ انہیں پر چل پڑتے ہیں۔ راہیں بنانے اور ان پر پوری قوم کے چلانے والے دراصل خواص ہوتے ہیں جن کی ہر بات اور ہر روش اپنی پشت پر دماغ‘ دولت‘ عزت اور حکمت کی طاقتیں رکھتی ہے اور قوم کو طوعاً و کرہاً انہی کی پیروی کرنی پڑتی ہے۔ جب کسی قوم کی بہتری کے دن آتے ہیں تو ان میں ایسے خواص پیدا ہوتے ہیں جو خود راہ راست پر چلتے اور پوری قوم کو اس پر چلاتے ہیں۔