مسلمان کی طاقت کا اصلی منبع

12 05 2008

مسلمان کی طاقت کا اصلی منبع

دوسری صدری ہجری کی ابتداءکا واقعہ ہے کہ سجستان درحج کے فرماں رواں نے جس کا خاندانہ لقب رتبیل تھا بنی امیہ کے عمال کو خراج دینا بند کردیا۔ پیہم چڑھائیاں کی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔ یزید بن عبدالمالک اموی کے عہد میں جب اس کے پاس طلب خراج کے لےے سفارت بھیجی گئی تو اس سے مسلمانوں کے سفراءسے دریافت کیا:

وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے؟ ان کے پیٹ فاقہ زدوں کی طرح پٹخے ہوئے ہوتے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ گٹے پڑے رہتے تھے اور کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے

اگرچہ تمہاری صوررتیں ان سے زیادہ شاندار ہیں‘ مگر وہ تم سے زیادہ عہد کے پابند تھے تم سے زیادہ طاقتور تھے“

مورخ لکھتا ہے کہ یہ کہ کر رتبیل نے خراج ادا کرنے سے انکار کردیا اور تقریباً نصف صدی تک اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔

< – - – Read More From This Article





مسلمان کا حقیقی مفہوم

12 05 2008

مسلمان کا حقیقی مفہوم

ہماری روزمرہ کی بول چال میں بعض ایسے الفاظ اور فقرے رائج ہیں جن کو بولتا تو ہر شخص ہے‘ مگر سمجھتے بہت کم ہیں۔ کثرت استعمال نے ان کا ایک اجمالی مفہوم لوگوں کے ذہن نشین کردیا ہے۔ بولنے والا جب ان الفاظ کو زبان سے نکالتا ہے تو وہی مفہوم مراد لیتا ہے ۔اور سننے والا جب انہیں سنتا ہے تو اسی مفہوم کو سمجھتا ہے۔ لیکن وہ گہرے معانی جن کے لیے وضع نے ان الفاظ کو واضح کیا تھا‘ جہلاءتو درکنار اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہوتے۔

مثال کے طور پر ”اسلام“ اور ”مسلمان“ کو لیجئے۔ کس قدر کثرت سے یہ الفاظ بولے جاتے ہیں اور کتنی ہمہ گیری کے ساتھ انہوں نے ہماری زبانوں پر قبضہ کرلیا ہے؟ مگر کتنے بولنے والے ہیں جو ان کو سوچ سمجھ کر بولتے ہیں؟ اور کتنے سننے والے ہیں جو انہیں سن کر وہی مفہوم سمجھتے ہیں جس کے لیے یہ الفاظ وضع کیے گئے تھے؟غیرمسلموں کو جانے دیجئے۔ خود مسلمانوں میں 99 فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ”مسلمان“ کہتے ہیں اور اپنے مذہب کو اسلام کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیںمگر نہیں جانتے کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور ”لفظ اسلام“ کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ آیئے تھوڑا سا وقت ہم انہی الفاظ کی تشریح میں صرف کریں۔

< – - – Read More From This Article