ہندوستان میں اسلامی تہذیب کا انحطاط

ہندوستان میں اسلامی تہذیب کا انحطاط

 دنیائے اسلام کا بیشتر حصہ ان ممالک پر مشتمل ہے جو صدر اوّل کے مجاہدین کی کوششوں سے فتح ہوئے ہیں۔ ان کو جن لوگوں نے فتح کیا تھا وہ ملک گیری اور حصول غنائم کے لیے نہیں بلکہ خدا کے کلمہ کو دنیا میں بلند کرنے کے لیے سروں سے کفن باندھ کر نکلے تھے‘ وہ طلب دنیا کے بجائے طلب آخرت کے نشہ میں سرشار تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے مفتوحین کو مطیع و باج گزار بنانے پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہیں اسلام کے رنگ میں رنگ دیا۔ ان کی پوری آبادی یا اس کے سواداعظم کو ملت حنیفی میں جذب کرلیا علم و عمل کی قوت سے ان میں اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب کو اتنا راسخ کر دیا کہ وہ خود تہذیب اسلامی کے علمبردار اور علوم اسلامی کے معلم بن گئے۔ ان کے بعد وہ ممالک ہیں جو اگرچہ صدر اوّل کے بعد اس عہد میں فتح ہوئے جب کہ اسلامی جوش سرد ہوچکا تھا اور فاتحین کے دلوں میں خالص جہاد فی سبیل اللہ کی روح سے زیادہ ملک گیری کی ہوس نے جگہ لے لی تھی‘ لیکن اس کے باوجود اسلام وہاں پھیلنے اور جڑ پکڑ لینے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے ان ممالک میں کلیتاً ایک قومی مذہب اور قومی تہذیب کی حیثیت حاصل کرلی۔

بدقسمتی سے ہندوستان کا معاملہ ان دونوں قسم کے ممالک سے مختلف ہے صدر اوّل میں اس ملک کا بہت تھوڑا حصہ فتح ہوا تھا اور اس تھوڑے سے حصہ پر بھی جو کچھ اسلامی تعلیم و تہذیب کے اثرات پڑے تھے‘ ان کو باطنیت کے سیلاب نے ملیامیٹ کر دیا۔ اس کے بعد جب ہندوستان میں مسلمانوں کی فتوحات کا اصلی سلسلہ شروع ہوا تو فاتحوں میں صدر اوّل کے مسلمانوں کی خصوصیات باقی نہیں رہی تھیں۔

انہوں نے یہاں اشاعت اسلام کے بجائے توسیع مملکت میں اپنی قوتیں صرف کیں اور لوگوں سے اطاعت خدا و رسول کے بجائے اپنی اطاعت اور باج گزاری کا مطالبہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں کی فرماں روائی کے بعد بھی ہندوستان کا سواداعظم غیر مسلم رہا‘ یہاں اسلامی تہذیب جڑ نہ پکڑ سکی‘ یہاں کے باشندوں میں سے جنہوں نے اسلام قبول کیا ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بھی کوئی خاص انتظام نہ کیا گیا‘ نو مسلم جماعتوں میں قدیم ہندوانہ خیالات اور رسم و رواج کم و بیش باقی رہے اور خود باہر کے آئے ہوئے قدیم الاسلام مسلمان بھی اہل ہند کے میل جول سے مشرکانہ طریقوں کے ساتھ رواداری برتنے اور بہت سی جاہلانہ رسوم کا اتباع کرنے لگے۔

اسلامی ہند کی تاریخ اور اس کے موجودہ حالات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس زمانہ میں اس ملک پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار پوری قوت سے چھایا ہوا تھا اس زمانہ میں بھی یہاں اسلام کے اثرات کمزور تھے اور یہاں کا ماحول خالص اسلامی ماحول نہ تھا۔ اگرچہ ہندوﺅں کا مذہب اور تمدن بجائے خود ضعیف تھا اور محکوم و مغلوب قوم کا مزہب و تمدن ہونے کی حیثیت سے اور بھی زیادہ ضعیف ہوگیا تھا‘ لیکن پھر بھی مسلمان حکمرانوں کی رواداری اور غفلت کی بدولت وہ ملک کے سواداعظم پر چھایا ہوا رہا اور ہندوستان کی فضا پر اس کے مستولی ہونے اور خود مسلمانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اپنے عقائد اور اپنی تہذیب میں کبھی اتنا صحیح اور پختہ اور کامل مسلمان نہ ہوسکا جتنا وہ خالص اسلامی ماحول میں ہوسکتا تھا۔

اٹھارہویں صدی عیسوی میں وہ سیاسی اقتدار بھی مسلمانوں سے چھن گیا جو ہندوستان میں اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا سہارا تھا پہلے مسلمانوں کی سلطنت متفرق ہو کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوئی پھر مرہٹوں اور سکھوں اور انگریزوں کے سیلاب نے ایک ایک کرکے ان ریاستوں میں سے بیشتر کا خاتمہ کر دیا اس کے بعد قضائے الٰہی نے انگریزوں کے حق میں اس ملک کی حکومت کا فیصلہ صادر کیا اور ایک صدی کا زمانہ نہ گزرا تھا کہ مسلمان اس سرزمین میں مغلوب و محکوم ہوگئے جس پر انہوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ انگریزی سلطنت جتنی جتنی پھیلتی گئی‘ مسلمانوں سے ان طاقتوں کی چھینتی چلی گئی جن کے بل پر ہندستان میں اسلامی تہذیب کسی حد تک قائم تھی اس نے فارسی اور عربی کے بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ اسلامی قوانین کو منسوخ کیا‘ شرعی عدالتیں توڑ دیں‘ دیوانی اور فوجداری معاملات میں خود اپنے قوانین جاری کیے‘ اسلامی قانون کے نفاذ کو خود مسلمانوں کے حق میں صرف نکاح و طلاق وغیرہ تک محدود کر دیا اور اس محدود و نفاذ کے اختیارات بھی قاضیوں کے بجائے عام دیوانی عدالتوں کے سپر کردیے جن کے حکام عموماً غیر مسلم ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں ”محمڈن لا“ روز بروز مسخ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ابتدا سے انگریزی حکومت کی پالیسی یہ رہی کہ مسلمانوں کو معاشی حیثیت سے پامال کرکے ان کے اس قومی فخروناز کو کچل ڈالے جو ایک خاکم قوم کی حیثیت سے صدیوں تک ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا ہے۔ چنانچہ ایک صدی کے اندر اندر اس پالیسی کی بدولت اس قوم کو مفلس‘ جاہل‘ پست خیال‘ فاسد الاخلاق اور ذلیل و خوار کرکے چھوڑا گیا۔

اس گرتی ہوئی قوم پر آخری ضرب وہ تھی جو 1857ءکے ہنگامہ میں لگی۔ اس نے مسلمانوں کی صرف سیاسی قوت ہی کا خاتمہ نہیں کیا بلکہ ان کی ہمتوں کو بھی توڑ دیا‘ ان کے دلوں پر مایوسی اور احساس ذلت کی تاریک گھٹائیں مسلط کردیں‘ ان کو انگریزی اقتدار سے اتنا مرعوب کیا کہ ان میں قومی خودداری کا شائبہ تک باقی نہ رہا اور ذلت و خواری کی انتہائی گہرائیوں میں پہنچ کر وہ ایسا سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ دنیا میں سلامتی حاصل کرنے کا ذریعہ انگریز کی اطاعت‘ عزت حاصل کرنے کا ذریعہ انگریز کی خدمت اور ترقی کرنے کا ذریعہ انگریز کی تقلید کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور ان کا اپنا سرمایہ علم و تہذیب جو کچھ بھی ہے ذلیل‘ سبب ذلت اور موجب نکبت ہے۔

انیسویں صدی کے نصف دوم میں جب مسلمانوں نے سنبھل کر پھر اٹھنے کی کوشش کی تو وہ دو قسم کی کمزوریوں میں مبتلا تھے۔

ایک یہ کہ وہ فکر و عمل کے اعتبار سے پہلے ہی اسلامی عقائد اور تہذیب میں پختہ نہ تھے اور ایک غیر اسلامی ماحول اپنے جاہلی افکار اور تمدن کے ساتھ ان کو گھیرے ہوئے تھا۔

دوسرے یہ کہ غلامی اپنے تمام عیوب کے ساتھ نہ صرف ان کے جسم پر بلکہ ان کے قلب و روح پر مسلط ہوچکی تھی اور وہ ان تمام قوتوں سے محروم کردیے گئے تھے جن سے کوئی قوم اپنے تمدن و تہذیب کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

اس دوہری کمزوری کی حالت میں مسلمانوں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو انہیں نظر آیا کہ انگریزی سلطنت نے اپنی ہوشیاری سے معاشی ترقی کے تمام تر دروازے بند کردیے ہیں اور ان کی کنجی انگریزی مدرسوں اور کالجوں میں رکھ دی ہے۔ اب مسلمانوںکے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ انگریزی تعلیم حاصل کریں۔ چنانچہ مرحوم سرسید احمد خاں کی رہنمائی میں ایک زبردست تحریک اٹھی جس کے اثر سے تمام ہندوستان کے مسلمانوں میں انگریزی تعلیم کی ضرورت کا احساس پیدا ہوگیا۔ پرانے لوگوں کے مخالفت بے کار ثابت ہوئی۔ دولت‘ عزت اور اثر کے لحاظ سے قوم کی اصلی طاقت جن لوگوں کے ہاتھ میں تھی انہوں نے اس نئی تحریک کا ساتھ دیا۔ ہندوستان کے مسلمان تیزی کے ساتھ انگریزی تعلیم کی طرف بڑھے۔ قوم کا تلچھٹ پرانے مذہبی مدرسوں کے لیے چھوڑ دیا گیا تاکہ مسجدوں کے امامت اور مکتبوں کی معلمی کے کام آئے‘ اور خوش حال طبقوں کے بہترین نونہال انگریزی مدرسوں اور کالجوں میں بھیج دیئے گئے تاکہ ان کے دل و دماغ کے سادہ اوراق پر فرنگی علوم و فنون کے نقوش ثبت کیے جائیں۔

یہ انیسویں صدی کے آخری چوتھائی کا زمانہ تھا۔ یورپ میں اس وقت مادیت انتہائی عروج پر تھی۔ اٹھارہویں صدی میں سائنس پوری طرح مذہب کو شکست دے چکی تھی۔ جدید فلسفہ اور نئے علوم حکمت کی رہنمائی میں سیاسیات‘ معاشیات‘ اخلاقیات اور اجتماعیات کے پرانے نظریے باطل ہو کر نئے نظریے قائم ہوچکے تھے۔ یورپ میں ایک خاص تہذیب پیدا ہوچکی تھی جس کی بنیاد کلیتاً انہی جدید نظریوں پر قائم تھی۔ اس انقلاب عظیم نے زندگی کے عملی معاملات سے تو مذہب اور ان اصولوں کو جو مذہبی رہنمائی پر مبنی تھے‘ کلی طور پر خارج کر ہی دیا تھا‘ البتہ تخیل کی دنیا میں مذہبی اعتقاد کی تھوڑی سی جگہ باقی رہ گئی تھی‘ سو اب اس کے خلاف زبردست جنگ جاری تھی اگرچہ علوم حکومت میں سے کسی علم نے بھی کائنات کے الٰہی نظریہ کے خلاف کوئی ثبوت (جس کو ثبوت کہا جاسکتا ہو) بہم پہنچایا تھا‘ مگر اہل حکمتگ بغیر کسی دلیل کے محض اپنے رجحان طبیعت کی بنا پر خدا سے بیزار اور الٰہی نظریہ کے دشمن تھے اور چوں کہ انہی کو اس وقت دنیا کی عقلی و علمی امامت کا منصب حاصل تھا اس لیے ان کے اثر سے خدا سے بے زاری (Theophobia) کا مرض ایک عام وبا کی طرح پھیل گیا۔ وجود باری کا انکار‘ کائنات کو آپ سے آپ پیدا ہونے والی اور آپ سے آپ قوانین طبعی کے تحت چلنے والی چیز سمجھنا‘ خدا پرستی کو توہم (Superstition) قرار دینا‘ مذہب کو لغو اور مذہبیت کو تنگ نظری و تاریک خیالی کہنا اور نیچریت (Naturalism) کو روشن خیالی کا ہم معنی سمجھنا اس وقت فیشن میں داخل ہوچکا تھا ہر شخص خواہ وہ فسفہ سائنس میں کچھ بھی دست گاہ نہ رکھتا ہو اور اس نے خود ان مسائل کی تحقیق میں ذرہ برابر بھی کوشش نہ کی ہو‘ صرف اس بنا پر ان خیالات کا اظہار کرتا تھا کہ سوسائٹی میں وہ ایک روشن خیال آدمی سمجھا جائے روحانیت (Spiritualism) یا فوق الطبیعت (Super Naturalism) کی تائید می کچھ کہنا اس وقت کفر کا درجہ رکھتا تھا۔ اگر کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان بھی اس قسم کے کسی خیال کا اظہار کرتا تو سائنٹیفک حلقوں میں اس کی ساری وقعت جاتی رہتی‘ اس کے تمام کارناموں پر پانی پھر جاتا اور وہ اس قابل نہ رہتا کہ اسے کسی علمی جماعت کی رکنیت کا شرف بخشا جائے۔

1859ءمیں ڈارون کی کتاب اصل الانواع (Origin of Species) شائع ہوئی جس نے نیچریت اور دہریت کی آگ پر تیل کا کام کیا۔ اگرچہ ڈارون کے دلائل جو اس نے اپنے مخصوص نظریہ ارتقاءکی تائید میں کچھ کہان اس وقت کفر کا درجہ رکھتا تھا۔ اگر کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان بھی اس قسم کے کسی خیال کا اظہار کرتا تو سائنٹیفک حلقوں میں اس کی ساری وقعت جاتی رہتی‘ اس کے تمام کارناموں پر پانی پھر جاتا اور وہ اس قابل نہ رہتا کہ اسے کسی علمی جماعت کی رکنیت کا شرف بخشا جائے۔

1859ءمیں ڈارون کی کتاب اصل الانواع (Origin of Species) شائع ہوئی جس نے نیچریت اور دہریت کی آگ پر تیل کا کام کیا۔ اگرچہ ڈارون کے دلائل جو اس نے اپنے مخصوص نظریہ ارتقاءکی تائید میں پیش کیے تھے‘ کمزور اور محتاج ثبوت تھے۔ اس سلسلہ ارتقا میں ایک کڑی نہیں بلکہ ہر موجود کڑی کے آگے اور پیچھے بہت سی کڑیاں مفقود تھی۔ اہل حکمت اس وقت بھی اس نظریے سے مطمئن نہ تھے حتیٰ کہ خود اس کا سب سے بڑا وکیل ہکسلے (Huxley) بھی اس پر ایمان نہ لایا تھا مگر اس کے باوجود محض خدا سے بے زاری کی بنا پر ڈارونیت کو قبول کرلیا گیا اس کی حد سے زیادہ تشہیر کی گئی اور مذہب کے خلاف ایک زبردست آلہ کے طور پر اسے استعمال کیا گیا۔ کیوں کہ اس نظریہ نے اہل حکمت کے زعم باطل میں اس دعوے کا ثبوت فراہم کر دیا تھا (حالانکہ دراصل اس نے ایک دعویٰ کیا تھا جو خود محتاج ثبوت تھا) کہ کائنات کا نظام کسی فوق الطبعی قوت کے بغیر آپ سے آپ طبعی قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ اہل مذہب نے اس نظریہ کی مخالفت کی اور برٹش ایسوسی ایشن کے جلسہ میں بشپ آف آکسفورڈ اور گلیڈاسٹن نے اپنی خطابت کا پورا زور اس کے کلاف صرف کیا‘ مگر شکست کھائی اور آخر کار اہل مذہب سائنفٹیک دہریت سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ 1882ءمیں جب ڈارون نے وفات پائی تو چرچ آف انگلینڈ نے وہ سب سے بڑا اعزاز اس کو بخشا جو اس کے اختیار میں تھا یعنی اسے ویسٹ منسٹر ایبی میں دفن کرنے کی اجازت دی۔ حالانکہ وہ یورپ میں مذہب کی قبر کھودنے والوں کا سرخیل تھا اور اس نے افکار کو الحاد زندقہ اور بے دینی کی طرف چلانے اور ذہنیت پیدا کرنے میں سب سے زیادہ حصہ لیا تھا جس سے آخر کار بالشوزم اور فاشزم کو پھلنے پھولنے اور بار آ±ر ہونے کا موقع ملا۔ 

یہ زمانہ تھا جب ہماری قوم کے نوجوان انگریزی تعلیم اور فرنگی تہذیب سے استفادہ کرنے کے لیے مدرسوں اور کالجوں میں بھیجے گئے۔ اسلامی تعلیم سے کورے‘ اسلام تہذیب میں خام‘ انگریزی حکومت سے مرعوب‘ فرنگی تہذیب کی شان و شوکت پر فریفتہ پہلے ہی سے تھے اب جو انہوں نے انگریزی مدرسے کی فضا میں قدم رکھا تو اس کا پہلا اثر یہ ہوا کہ ان کی ذہنیت کا سانچہ بدلا اور ان کی طبیعت کا رخ مذہب سے پھر گیا کیوں کہ اس آب و ہوا کی اولین تاثیر یہ تھا کہ یورپ کے کسی مصنف یا محقق کے نام سے جو چیز پیش کی جائے‘ اس پر وہ بے تامل امنا و صدقنا کہیں اور قرآن و حدیث یا ائمہ دین کی طرف سے کوئی بات پیش ہو تو اس پر دلیل کا مطالبہ کریں۔ اس منقلب ذہنیت کے ساتھ انہوں نے جن مغربی علوم کی تعلیم حاصل کی ان کے اصول و فروغ اکثر و بیشتر اسلام کے اصول اور جزئیات احکام کے خلاف تھے۔ اسلام میں مذہب کا تصور یہ ہے کہ وہ زندگی کا قانون ہے اور مغرب میں مذہب کا تصور یہ ہے کہ وہ محض ایک شخص اعتقاد ہے جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں پہلی چیز ایمان باللہ ہے اور وہاں سرے سے اللہ کا وجود ہی مسلم نہیں۔ اسلام کا پور انظام تہذیب وحی و رسالت کے اعتقاد پر قائم ہے۔ اور وہاں وحی کی حقیقت ہی میں شک اور رسالت کے منجانب اللہ ہونے ہی میں شبہ ہے۔ اسلام میں آخرت کا اعتقاد پورے نظام اخلاق کا سنگ بنیاد ہے اور وہاں یہ بنیاد خود بے بنیاد نظر آتی ہے۔ اسلام میں جو عبادات اور اعمال فرض ہیں وہاں وہ محض عہد جاہلیت کے رسوم ہیں جن کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح اسلام کے اصول تمدن و تہذیب بھی مغربی تہذیب و تمدن کے اصول سے یکسر مختلف ہیں۔ قانون میں اسلام کا اصل الاصول یہ ہے کہ خود خدا واضح قانون ہے۔ رسول خدا شارح قانون اور انسان صرف متبع قانون۔ مگر وہاں خدا کو وضع قانون کا سرے سے کوئی حق ہی نہیں۔ لیجسلیچر واضح قانون ہے اور قوم لیجیسلیچر کو منتخب کرنے والی ہے۔ سیاسیات میں اسلام کا مطمح نظر حکومت الٰہی ہے اور مغرب کا مطمح نظر حکومت قومی۔ اسلام کا رخ بین الاقوامیت (Internationalism) کی طرف ہے اور مغرب کا کعبہ مقصود قومیت (Nationalism) معاشیات مین اسلام اکل حلال اور زکوٰة صدقہ اور تحریم سود پر زور دیتا ہے اور مغرب کا سارا نظام معاشی ہی سود اور منافع پر چل رہا ہے۔ اخلاقیات میں اسلام کے پیش نظر آخرت کی کامیابی ہے اور مغرب کے پیش نظر دنیا کا فائدہ۔ اجتماعی مسائل میں بھی اسلام کا راستہ قریب قریب ہر معاملہ میں مغرب کے راستہ سے مختلف ہے۔ ستروحجاب‘ حدود زن و مرد‘ تعداد ازدواج‘ قوانین نکاح و طلاق‘ ضبط ولادت‘ حقوق ذوی الارحام‘ حقق زوجین اور ایسے ہی دوسرے بہت سے معاملات ہیں جن میں ان دونوں کا اختلاف اتنا نمایاں ہے کہ بیان کی حاجت نہیں اور اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے اصول مختلف ہیں۔ ہمارے نوجوان نے مرعوب بلکہ غلامانہ ذہنیت اور پھر غیر مکمل اسلامی تعلیم و تربیت کے ساتھ جب ان مغربی علوم کی تحصیل کی اور مغربی تہذیب کے زیر اثر تربیت پائی تو نتیجہ جو کچھ ہونا چاہیی تھا وہی ہوا۔ ان میں تنقید کی صلاحیت پیدا نہ ہوسکی۔ انہوں نے مغرب سے جو کچھ سیکھا اس کو صحت اور درستی کا معیار سمجھ لیا۔ پھر ناقص علم کے ساتھ اسلام کے اصول و قوناین کو اس معیار پر جانچ کر دیکھا اور جس مسئلہ میں دونوں کے درمیان اختلاف پایا اس میں کبھی مغرب کی غلطی محسوس نہ کی بلکہ اسلام ہی کو برسر غلط سمجھا اور اس کی اصول و قوانین میں ترمیم و تنسیخ کرنے پر آمادہ ہوگئے۔

جدید تعلیم نے معاشی اور سیاسی حیثیت سے ہندوستان کے مسلمانوں کو خواہ کتنا ہی فائدہ پہنچا ہو مگر ان کے مذہب اور ان کی تہذیب کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی کسی فائدے سے نہیں ہوسکتی۔

(ترجمان القرآن رجب ۳۵۳۱ھ۔ اکتوبر ۴۳۹۱ئ)

Leave a comment