مغربی تہذیب کی خود کشی
سیاست‘ تجارت ‘ صنعت وحرفت اور علوم وفنون کے میدانوں میں مغربی قوموں کے حیرت انگیز اقدامات کو دیکھ کر دل اور دماغ سخت دہشت زدہ ہوجاتے ہیں۔ یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید ان قوموں کی ترقی لازوال ہے۔ دنیا پر ان کے غلبہ اور تسلط کادائمی فیصلہ ہوچکا ہے۔ ربع مسکون کی حکومت اور عناصر کی فرماں روائی کا انہیں ٹھیکہ دے دیا گیا ہے اور ان کی طاقت ایسی مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگئی ہے کہ کسی کے اکھاڑے نہیں اکھڑ سکتی ۔
ایسا ہی گمان ہر زمانے میں ان سب قوموں کے متعلق کیا جاچکا ہے۔ جو اپنے اپنے وقت میں غالب قومیں تھیں۔ مصر کے فراعنہ‘ عرب کے عادو ثمود‘ عراق کے کلدانی‘ ایران کے اکاسرہ‘ یونان کے جہانگیر فاتح‘ روم کے عالمگیر فرمانروا‘ مسلمانوں کے جہاں کشا مجاہد‘ تاتار کے عالم سوز سپاہی‘ سب اس کرہ خاکی کے اسٹیج پر اسی طرح غلبہ وقوت کے تماشے دکھا چکے ہیں۔ ان میںسے جس جس کے کھیل کی باری آئی۔ اس نے اپنی چلت پھرت کے کرتب دکھاکر اسی طرح دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ہر قوم جب اٹھی ہے تو وہ اس طرح دنیا پر چھا گئی ہے۔ اسی طرح اس نے چار دانگ عالم میں اپنی سوکت وجبروت کے ڈنکے بجائے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں مبہوت ہوکر گمان کیا ہے کہ ان کی طاقت لازوال ہے۔ مگر جب ان کی اجل پوری ہوگئی اور حقیقت میں لازوال طاقت رکھنے والے فرمانروا نے ان کے زوال کا فیصلہ صادر کردیا تو وہ ایسے گرے کہ اکثر تو صفحہ ہستی سے ناپید ہوگئے ۔ اور بعض کا نام ونشان اگر دنیا میں باقی رہا تو وہ بھی اس طرح کہ اپنے محکوموں کے محکوم ہوئے۔ اپنے غلاموں کے غلام بنے۔ اپنے مغلوبوں کے مغلوب ہوکر رہے۔ قد خلت من قبلکم سنن فیسرو فی الارض فانظرو کیف کان عاقبة المکذبین (آل عمران 137)
کائنات کا نظام کچھ اس طور واقع ہوا ہے کہ اس میں کہےں سکون اور ٹھہراﺅ نہیں ہے۔ ایک پہیم حرکت‘ تغیر اور گردش ہے جو کسی چیز کو ایک حالت پر قرار نہیں لینے دیتی۔ ہر سکون کے ساتھ ایک فساد ہے۔ ہر بناﺅ کے ساتھ ایک بگاڑ ہے۔ ہر بہار کے ساتھ ایک خزا ہے۔ ہر چڑھاﺅ کے ساتھ اتار ہے۔ اور اسی طرح اس کا عکس بھی ہے ایک ماشہ بھر کا دانہ آج ہوا میں اڑا ڑا پھرتا ہے۔ کل وہی زمین پر استحکام حاصل کرکے ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ پرسوں وہی سوکھ کر پیوند خاک ہوجاتا ہے۔ اور فطرت کی نمو بخشنے والی قوتیں اسے چھوڑ کر کسی دوسری بیچ کی پرورش میں لگ جاتی ہیں۔ یہ زندگی کے اتار چڑھاﺅ ہیں۔ انسان جب ان میں سے کسی ایک حالت کو زیادہ طویل مدت تک جاری رہتے ہوئے دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ حالت دائمی ہے۔ اگر اتار ہے تو سمجھتا ہے کہ اتار ہی رہے گا ۔ اگر چڑھاﺅ ہے تو خیال کرتا ہے کہ چڑھاﺅ ہی رہے گا۔ لیکن یہاں جو فرق جو کچھ بھی ہے دیر اور سویر کا ہے۔ دوام کسی حالت کو بھی نہیں ہے۔
وتلک الایام نداولھا بین الناس (آل عمران 140)
دنیا کی حالات ایک طرح کی دوری حرکت میں گردش کررہے ہیں۔ پیدائش اور موت‘ جوانی اور بڑھاپا‘ قوت اور ضعف‘ بہار اور خزاں‘ شگفتگی اور پژمردگی‘ سب اسی گردش کے مختلف پہلو ہیں۔ اس گردش میں بار باری سے ہر چیز پر ایک دور اقبال کا آتا ہے۔ جس میں وہ بڑھتی ہے۔ پھیلتی ہے قوت اور زور دکھاتی ہے۔ حسن اور بہار کی نمائش کرتی ہے حتیٰ کہ اپنی ترقی کی انتہائی حد کو پہنچ جاتی ہے پھر ایک دوسرا دور آتا ہے جس میں وہ گھٹتی ہے‘ مرجھاتی ہے۔ ضعف اور ناتوانی میں مبتلا ہوتی ہے۔ اور آخر کار وہی قوتیں اس کا خاتمہ کردیتی ہیں جنہوں نے اس کی استبدا کی تھی۔
یہ اپنی مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اور دنیا کی سب چیزوں کی مانند یہی سنت انسان پر بھی جاری ہے۔ خواہ کو فرد کی حیثیت سے لیا جائے یا قوم کی حیثیت سے۔ ذلت‘ عزت ‘ عسر اور یسر‘ تنزل اور ترقی اور ایسی ہی دوسری تمام کیفیات اسی دوری حرکت کے ساتھ مختلف افراد اور قوموں میں تقسیم ہوتی رہتی ہیں۔ باری باری سے سب پر یہ دور گزرتے ہیں۔ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس تقسیم میں کلیتہ محروم رکھا گیا ہو یاس جس پر کسی ایک کیفیت کو دوام بخشا گیا ہو۔ عام اس سے کہ وہ اقبال کی کیفیت ہو یا ادبار کی۔ سنة اللہ فی الذین خلوا من قبل و لن تجد لسنة اللہ تبدیلا (الاخزاب 62)
روز زمین کے چپہ چپہ پر ہم کو ان قوموں کے آثار ملتے ہیں جو ہم سے پہلے ہو گزری ہیں۔ وہ اپنے تمدن و تہذیب اپنی صعنت وکاریگری‘ اپنی ہنر مندی وچابک دستی کے ایسے نشانات دنیا میں چھوڑ گئی ہیں جن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل کی ترقی یافتہ اور غالب قوموں سے وہ کچھ کم نہ تھیں بلکہ اپنے ہم عصروں پر ان کا غلبہ کچھ ان سے زیادہ تھا۔ کانو اشد منھم قوة واثارو الارض و عمروھا اکثر مما عمروھا۔ (الروم9:) مگر ان کا حشر کیا ہوا؟ اقبال سامنے دیکھ کر وہ دھوکہ کھا گئے۔ نعمتوں کی بارش نے ان کو غرہ میں ڈال دیا۔ خوشحالی ان کے لیے فتنہ بن گئی۔ غلبہ اور حکومت سے مغرور ہوکر وہ جبار وقہار بن بیٹھے۔ انہوں نے اپنے کرتوتوں سے اپنے نفس پر آپ ظلم کرنا شروع کردیا۔ واتبع الذین ظلمو امآ اترفوا فیہ و کانو مجرمین (ہود16:) خدا نے ان کی سرکشی کے باوجود ان کو ڈھیل دی۔ وکاین من قریة املیت لھا وھی ظالما (الحجہ 48:) اور یہ ڈھیل بھی کچھ معمولی ڈھیل نہ تھی۔ بعض قوموں کو صدیوں تک یوں ہی ڈھیل دی جاتی رہی۔ وان یوما عند ربک کالف سنتہ مما تعدون مگر ہر مہلت ان کے لیے نیا فتنہ بن گئی۔ وہ سمجھے کی خدا ان کی تدبیروں کے مقابلہ میں عاجز آگیا ہے اور اب دنیا پر خدا کی نہیں ان کی حکومت ہے۔ آخر کار قہر الٰہی بھڑک اٹھا۔ ان کی طرف سے نظر عنایت پھر گئی۔ اقبال کے بجائے ادبار کا دور آگیا۔ ان کی چالوں کے مقابلہ میں خدا بھی ایک چال چلا۔ مگر خدا کی چال ایسی تھی کہ وہ اس کو سمجھ ہی نہ سکتے تھے۔ پھر اس کا توڑ کہاں سے کرتے؟ و مکرو امکرا ومکرنا مکرا و ھم لایشعرون خدا کی چال سامنے نہےں آتی خود انسان کے اندر سے اس کے دماغ اور دل میں سرایت کرکے اپنا کرم کرتی ہے۔ وہ انسان کی عقل‘ اس کے شعور‘ اس کی تمیز‘ اس کی فکر‘ اس کے حواس پر حملہ کرتی ہے وہ اس کے سینے کی آنکھیں پھوڑ دیتی ہے۔ وہ اس کو آنکھوں کا اندھا نہیں بلکہ عقل کا اندھا بنادیتی ہے۔ فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور اور جب اس کے دل کی آنکھیں پھوٹ جاتی ہیں تو ہر تدبیر جو اپنی بہتری کے لیے سوچتا ہے وہ الٹی اس کے خلاف پڑتی ہے۔ ہر قدم جو وہ کامیابی کے مقصور کی طرف بڑھاتا ہے وہ اس کو ہلاکت کے جنہم کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کی ساری قوتیں خود اس کے خلاف بغاوت کردیتی ہیں۔ اور اس کے اپنے ہاتھ اس کا گلا گھونٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ فانظرو کیف کان عاقبة مکرھمم انا دمرنھم و قومھم اجمعین (النحل 51)
اس اقبال و ادبار کا ایک مکمل نقشہ ہم کو آل فرعون اور نبی اسرائیل کے قصے میں ملتا ہے۔ اہل مصر جب ترقی کے انتہائی مدارج کو پہنچ گئے تو انہوں نے ظلم و سرکشی پر قمر باندھی۔ ان کے بادشاہ فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا اور ایک کمزور قوم بنی اسرائیل کو جو حضرت یوسف کے زمانے میں وہاں جاکر آباد ہوگئی تھی۔ حد سے زیادہ سے زیادہ جورو ستم کا تختہ مشق بنایا۔ آخر کار اس کی اور اہل مصر کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو خدا نے ارادہ کیا کہ ان کو نیچا دکھائے اور اسی ضعیف قوم کو سربلند کرے۔ جس کو وہ ہیچ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔ اس ضعیف قوم میں حضرت موسیٰؑ پیدا کیے گئے ان کو خود فرعون کے گھر میں خود اس کے ہاتھوں میں پرورش کرایا گیا اور انہیں اس خدمت پر مامور کیا گیا کہ اپنی قوم کو مصریوں کی غلامی سے نجات دلائیں۔ انہوں نے فرعون کو نرمی کی راہ سے سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا۔ خدا کی طرف سے فرعون اور اس کی قوم کو مسلسل تنبیں کی گئیں۔ قحط پر قحط پڑے‘ طوفان پر طوفان آئے‘ خون برسا‘ ٹڈی دل ان کے کھیتوں کو چاٹ گئے‘ جوﺅں اور مینڈکوں نے ان کو خوب ستانا۔ مگر ان کے تکبر میں فرق نہ آیا۔ فاستکبروا و کانو قوما مجرمین ۔ جب تمام حجتیں ایک ایک کرکے ختم ہوچکیں تو عذاب الٰہی کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔ خدا کے ہکم سے حضرت موسیٰ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل گئے۔ فرعون اپنے لشکروں سمیت سمندر میں عراق کردیا گیا اور مصرکی طاقت ایسی تباہ ہوئی کہ صدیوں تک نہ ابھر سکی۔ فاخذنہ و جنودہ فنمذ نھم فی الیم ‘ فانظرو کیف کان عاقبة الظلمین (1) پھر نبی اسرائیل کی بار آئی۔ مصرف قوم کو گرانے کے بعد کائنات کے حقیقی فرما نروا نے اس قوم کو زمین کی حکومت بخشی جو دنیا میں ذلیل وخوا ر تھی۔ واورثنا القوم الذین کانو یستضعفون مشارق الارض و مغاربھا التی برکنا فیھا۔ وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرائیل بما صبرو (2) اور اس کو دنیا کی تمام قوموں پر فضلیت عطا فرمائی۔ وانی فضلتکم علی العالمین (3) مگر یہ فضلیت اور ارضی حسن عمل کی شرط کے ساتھ مشروط تھی۔ حضرت موسیٰ کی زبان سے پہلے ہی کہلوا دیا گیا تھا کہ تم کو زمین کی خلافت دی تو ضرور جائے گی مگر اس بات پر بھی نظر رکھی جائے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ کیف تعملون(4) اور یہ وہ شرط ہے جو نبی اسرائیل کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ جس قوم کو بھی زمین کی حکومت دی جاتی ہے۔ اس پر یہی شرط لگادی جاتی ہے۔ ثم جعلنکم خلیف فی الارض من بعدھم لنظرو کیف تعلمون (5)
پس بنی اسرائیل نے اپنے رب سے سرکشی کی اس کے کلام میں تحریف کی۔ حق کو باطل دے بدل دیا۔ حرام خوری‘ جھوٹ‘ بے ایمانی اور عہد شکنی کا شیوہ اختیار کیا۔ زرپرست‘ حریص‘ بزدل اور آرام طلب بن گئے اپنے انباءکو قتل کیا حق کی طرف بلانے والوں سے دشمنی کی۔ آئمہ خیرسے منہ موڑا۔ آئمہ شر کی اطاعت اختیار کی تو رب العالمین کی نظر ان کی طرف سے پھر گئی۔ ان سے زمین کی وراثت چھین لی گئی۔ ان کو عراق‘ یونان اور روم کے جابر سلاطین سے پامال کرایا گیا۔ ان کو گھر سے بے گھر کردیا گیا۔ ان کو ذلت وخواری کے ساتھ مل ملک کی خاک چھنوائی گئی۔ انتظام ان سے چھین لیا گیا۔ دوہ ہزار برس سے وہ خدا کی لعنت میں ایسے گرفتار ہوئے ہیں کہ دنیا میں ان کو عزت کا ٹھکانا نہیں ملتا۔ و ضربت علیھم الذلة و المسکنة‘ و باﺅ بغضب من اللہ (البقرہ 61)
آج اسی سنت الٰہی کا اعادہ پھر ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے جس شامت اعمال میں پچھلی قومیں گرفتار ہوئی تھیں۔ اسی شامت نے آج مغربی قوموں کو آن پکڑا ہے ۔ جتنی تنبیں ممکن تھیں۔ وہ سب کو ان کو دی جاچکیں۔ جن عظیم کے مصائب‘ معاشی مشکلات‘ بے کاری کی کثرت‘ امراص خبیثہ کی شدت‘ نظام عائلی کی برہمی‘ یہ سب کھلی ہوئی روشن آیات ہیں۔ جن سے وہ اگر وہ آنکھیں رکھتے تو معلوم کرسکتے تھے کہ ظلم ‘ سرکشی‘ نفس پرستی اور حق فراموشی کے کیا نتائج ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان آیات سے سبق نہیں لیتے ۔ حق سے منہ موڑنے پر برابر اصرار کیے جارہے ہیں۔ ان کی نظر علت مرض تک نہیں پہنچی۔ وہ صرف آثار مرض کو دیکھتے ہیں۔ اور انہی کا علاج کرنے میں اپنی ساری تدابیر صرف کررہے ہیں۔ اس لیے جوں جوں دوا کی جاتی ہے مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اب حالات کہہ رہے ہیں کہ تنبیہوں اور حجتوں کا دور ختم ہونے والا ہے اورآخری فیصلے کا وقت قریب ہے۔
قوت الٰہی نے دور زبردست شیطان مغربی قوموں پر مسلط کردئیے ہیں جو ان کو ہلاکت اور تباہی کی طرف کھینچے لیے جارہے ہیں ایک قطع نسل کا شیطان ہے اور دوسرا قوم پرستی کا شیطان۔ پہلا شیطان ان کے افراد پر مسلط ہے اور دوسرا ان کے قوموں اور سلطنتوں پر۔ پہلے نے ان کے مردوں اور عورتوں کی عقلیں خراب کردی ہیں وہ خود ان کے اپنے ہاتھوں سے ان کی نسلوں کا استیصال کرارہا ہے۔ وہ انہیں منع حمل کی تدبریں سجھاتا ہے اسقاط حمل پر امادہ کرتا ہے۔ عمل تعقیم (Sterilization) کے فوائد بتاتا ہے۔ جن سے وہ اپنی قوت تولید کا بیچ ہی مار دیتے ہیں۔ انہیں اتنا شقی القلب بنادیتا ہے کہ وہ بچوں کو آپ ہلاک کردیتے ہیں۔ غرض یہ شیطان وہ ہے جو بتدریج ان سے خود کشی کرارہا ہے۔
دوسرے شیطان نے ان کے بڑے بڑے سیاسی مدبروں اور جنگی سپہ سالاروں سے صحےح فکر اور صحیح تدبیر کی قوت سلب کرلی ہے۔ وہ ان میں خود غرضی‘ مسابقت‘ منافرت‘ عصبیت اور حرص و طمع کے جذبات پیدا کررہا ہے۔ وہ ان کو مخاصم اور ماند گروہوں میں تقسیم کررہا ہے۔ انہیں ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چھکاتا ہے۔ کہ یہ بھی عذاب الٰہی کی ایک صورت ہے۔ اویلبسکم شیعاً ویذیق بعضکم باس بعض (الانعام65:) وہ ان کو ایک بڑی زبردست خودکشی کے لیے تیار کررہا ہے۔ جو تدریجی نہیں بلکہ اچانک ہوگی۔ اس نے تمام دنیا میں باردو کے خزانے جمع کردئیے ہیں اور جگہ جگہ خطرے کے مرکز بنا رکھی ہیں۔ اب وہ صرف ایک وقت کا منتظر ہے جونہی کہ اس کا وقت آیا وہ کسی ایک خزانہ باروت کو شتابہ دکھا دے گا۔ پھر آن کی آن میں وہ تباہی نازل ہوگی جس کے آگے تمام پچھلی قوموں کی تباہیاں ہیچ ہوجائیں گی۔
یہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس میں کسی قسم کا مبالغہ نہیں ہے۔ بلکہ یورپ‘ امریکا اور جاپان میں آئندہ جنگ کے لیے جس قسم کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ان کو دیکھ دیکھ خود ان کی اہل بصیرت لرز رہے ہیں۔ اور اس جنگ کا تصور کرکے ان کے حواس باختہ ہوئے جاتے ہیں۔ حال میں سرجل نیومان (Sergel neuman) نے جو پہلے امریکا کے ملٹری اسٹاف کا ایک رکن تھا۔ آئندہ جنگ پر ایک مضمون لکھا ہے اس میں وہ کہتا ہے کہ آئندہ جنگ محض فوجوں کی لڑائی نہیں ہوگی بلکہ اسے قتل عام کہنا چاہیے جس میں عورتوں اور بچوں تک کو نہ چھوڑا جائے گا۔ سائنسدانوں کی عقل نے جنگ کاکام سپاہیوں سے چھین کر کیمیاوی مرکبات اور بے روح آلات کے سپرد کردیا ہے۔ جو مقاتل (Combatants) اور غیر مقاتل (Non-Combatants) تمیز کرنے سے قاصر ہیں۔ اب محارب طاقتوںکی لڑائی میدانوں اور قلعوں میں نہیں ہوگی بلکہ شہروں اور بستیوں میں ہوگی کیونکہ جدید نظریہ کے مطابق غنیم کی اصلی قوت فوجوں میں نہیں بلکہ اس کی آبادیوں‘ اس کی تجارتی منڈیوں اور صنعتی کارگاہوں میں ہے۔ اب ہوائی جہازوں سے طرح طرح کے بم برسائے جائیں گے۔ جس سے آتش فشاں مادے‘ زہریلی دوائیں‘ امراض کے جراثیم نکل کر وقت واحد میں ہزاروں لاکھوں کی آبادی کو نسیت ونابود کردیں گے۔ ان میں سے ایک قسم کے بم (Lewisite bombs) ایسے ہیں جن کا ایک گولہ لندن کی بڑی سے بڑی عمارت کو پارہ پارہ کرسکتا ہے۔ ایک زہریلی ہوا (Green cross gass) کے نام سے موسوم ہے جس کی خاصیت یہ ہے کہ جو اس کو سونگھے گا وہ ایسا محسوس کرے گا گویا پانی میں ڈوب گیا ہے۔ ایک دوسری قسم کی زہریلی ہوا (Yellow Cross gass) میں سانپ کے زہر کی سی خاصیت ہے۔ اس کے سونگھنے سے بالکل وہی اثرات ہوتے ہیں جو سانپ کے کاٹے سے ہوتے ہیں۔ اسی قسم کی بارہ زہریلی ہوائیں اور بھی ہیں جو تقریباض غیر مرئی ہیں۔ ان کی اثرات ابتداً بالکل محسوس نہیں ہوتے اور جب محسوس ہوتے ہیں تو تدبیر علاج کے امکانات باقی نہیں رہتے۔ ان میں سے ایک خاص ہوا ایسی ہے جو بہت بلندی تک پہنچ کر پھیل جاتی ہے اورجو ہوائی جہاز اس کے حلقہ سے گزرتا ہے اس کا چلانے والا یکا یک اندھا ہوجاتا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ بعض زہریلی ہوائیں اگر ایک ٹن کی مقدار میں شہر پیرس پر چھوڑ دی جائیں تو ایک گھنٹہ کے اندر کلیتاً تباہ کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ایک ایسا کام ہے جس کو انجام دینے کے لیے صرف 100 ہوا جہاز کافی ہیں۔
حال میں ایک برقی آتش فشاں گولہ ایجاد کیا گیا ہے جس کا وزن صرف ایک کلو گرام ہوتا ہے۔ مگر اتنے سے گولہ میں یہ قوت ہے کہ جب کسی چیز سے اس کا تصادم ہوتا ہے تو دفعتاً تین ہزار درجہ فارن ہائیٹ کی حرارت پیدا ہوتی ہے اور اس سے ایسی آگ بھڑک اٹھتی ہے جو کسی چیز سے بجھائی نہیں جاسکتی۔ پانی اس کے حق میں پیٹرول ثابت ہوا ہے اور ابھی تک سائنس اس کے بجھانے کا کوئی طریقہ دریافت نہیں کرسکی ہے۔ خیال یہ ہے کہ ان کو شہروں کے بڑے بڑے بازاروں پر پھینکا جائے گا تاکہ اس سے سرے سے اس سرے تک آگ لگ جائے۔ پھر جب لوگ سراسیمہ ہوکر بھاگنے لگیں گے تو ہوائی جہازوں سے زہریلی ہواﺅں کے بم برسائے جائیں گے جن سے تباہی کی تکمیل ہوجائے گی۔
ان ایجادات کو دیکھ کر ماہرین فن نے اندازہ لگایا ہے کہ چند ہوائی جہازوں سے دنیا کے بڑے سے بڑے اور محفوظ دارالسطنت کو دو گھنٹوں میں پیوند خاک کیا جاسکتا ہے لاکھوں کی آبادی کو اس طرح موسوم کیا جاسکتا ہے ک رات کو اچھے خاصے سوئیں اور صبح کو ایک بھی زندہ نہ اٹھے۔ زہریلے مادوں سے ایک پورے ملک میں پانی کے ذخائر کو موسوم‘ مواشی اور حیوانات کو ہلاک‘ کھیتوں اور باغوں کو غارت کیا جاسکتا ہے۔ ان تباہ کن حملوں کی مدافعت کا کوئی ذریعہ ایجاد نہیں ہوا ہے۔ بجز اس کے کہ دونوں محارب فریق ایک دوسرے پر اسی طرح حملے کریں اور دونوں ہلاک ہوجائیں۔
یہ آئندہ جنگ کی تیاریوں کا مختصر بیان ہے۔ اگر آپ تفصیلات معلوم کرنا چاہتے ہیں تو کتاب (What would be the charatcter of a new war) ملاحظہ کیجئے جو جنیوا کی انٹر پارلیمنٹری یونین نے باقاعدہ تحقیقات کے بعد شائع کی ہے۔ اس کو پڑھ کر آپ اندازہ لگالیں گے کہ مغربی تہذیب نے کس طرح اپنی ہلاکت کا سامان اپنے ہاتھوں فراہم کیا ہے۔ اب اس کی عمر کا متداد صرف اعلان جنگ کی تاریخ تک ہے۔ (1) جس روز دنیا کی دو بڑی سلطنتوں کے درمیان جنگ چھڑی اسی روز سمجھ لیجئے کہ مغربی تہذیب کی تباہی کے لیے خدا کا فیصلہ صادر ہوچکا۔ کیونکہ دو بڑی سلطنتوں کے میدان میں اترنے کے بعد کوئی چیز جنگ کو عالمگیر ہونے سے نہیں بچا سکتی اور جب جنگ عالمگیر ہوگی تو تباہی بھی عالمگیر ہوگی۔
ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملو لعلھم یرجعون (الروم 41
لوگوں کے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کرتوتوں سے خشکی اور تری میں فساد رونما ہوگیا ہے۔ تاکہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزا چھکائے۔ شاید وہ اب بھی رجوع کریں۔
بہرحال اب قریب ہے کہ وراثت ارضی کا نیا بندوبست ہو اور ظالمین و مسرفین کو گرا کر کسی دوسری قوم کو ( جوغالباً مسضعفین ہی میں سے ہوگی) زمین کی خلافت پر سرفراز کیا جائے۔ دیکھنا ہے کہ اس مرتبہ حضرت حق کی نظر انتخاب کس پر پڑتی ہے۔
ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ آئندہ کون سی قوم اٹھائی جائے گی یہ اللہ کی دین ہے جس سے چاہتا ہے چھینتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ قل اللھم مٰلک الملک توتی الملک من تشاءو تنزع الملک ممن تشاءمگر اس معاملہ میں اس کا ایک قانون ہے جسے اس نے اپنی کتاب عزیز میں بیان فرما دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک قوم کو جب وہ اس کے برے اعمال کی وجہ سے گراتا ہے تو اس کی جگہ کسی ایسی قوم کو اٹھاتا ہے جو اس مغضوب قوم کی بدکار اور اس کی مانند سرکش نہ ہو۔
وان تتولو ایستبدل قوما غیر کم ثم لا یکونوا امثالکم
اگر تم نے رو گردانی کی تو تمہاری بجائے کسی اور قوم کو اٹھائے گا پھر وہ لوگ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔
اس لیے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج کل جو کمزور اور مغلوب النفس قومیں مغربی تہذیب کی نقالی کررہی ہیں۔ اور فرنگی اقوام کے محاسن کو ( جو تھوڑے بہت ان میں باقی رہ گئے ہیں) اختیار کرنے کے بجائے ان کے معائب کو اختیار کررہی ہیں۔( جو ان کے مغضوب ہونے کی علت ہیں) ان کے لیے آئندہ انقلاب میں کامیابی و سرفرازی کا کوئی موقع نہیں ہے۔
)ترجمان القرآن جمادی الاخری 1352ھ اکتوبر 1932ئ(