مسلمان کا حقیقی مفہوم

مسلمان کا حقیقی مفہوم

ہماری روزمرہ کی بول چال میں بعض ایسے الفاظ اور فقرے رائج ہیں جن کو بولتا تو ہر شخص ہے‘ مگر سمجھتے بہت کم ہیں۔ کثرت استعمال نے ان کا ایک اجمالی مفہوم لوگوں کے ذہن نشین کردیا ہے۔ بولنے والا جب ان الفاظ کو زبان سے نکالتا ہے تو وہی مفہوم مراد لیتا ہے ۔اور سننے والا جب انہیں سنتا ہے تو اسی مفہوم کو سمجھتا ہے۔ لیکن وہ گہرے معانی جن کے لیے وضع نے ان الفاظ کو واضح کیا تھا‘ جہلاءتو درکنار اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہوتے۔

مثال کے طور پر ”اسلام“ اور ”مسلمان“ کو لیجئے۔ کس قدر کثرت سے یہ الفاظ بولے جاتے ہیں اور کتنی ہمہ گیری کے ساتھ انہوں نے ہماری زبانوں پر قبضہ کرلیا ہے؟ مگر کتنے بولنے والے ہیں جو ان کو سوچ سمجھ کر بولتے ہیں؟ اور کتنے سننے والے ہیں جو انہیں سن کر وہی مفہوم سمجھتے ہیں جس کے لیے یہ الفاظ وضع کیے گئے تھے؟غیرمسلموں کو جانے دیجئے۔ خود مسلمانوں میں 99 فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ”مسلمان“ کہتے ہیں اور اپنے مذہب کو اسلام کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیںمگر نہیں جانتے کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور ”لفظ اسلام“ کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ آیئے تھوڑا سا وقت ہم انہی الفاظ کی تشریح میں صرف کریں۔

اعتقاد اور عمل کے لحاظ سے اگر آپ لوگوں کے احوال پر نگاہ ڈالیں گے تو عموماً تین قسم کے لوگ آپ کو ملیں گے۔

ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو اعلانیہ آزادی رائے اور آزادی عمل کے قائل ہیں۔ ہر معاملہ میں خود اپنی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ صرف اپنی عقل کے فیصلوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اور وہی طریق کار اختیار کرتے ہیں جو ان کے اپنے خیال میں صحیح ہوتا ہے۔ کسی مذہب کی پیروی سے ان کو کچھ سروکار نہیں ہوتا۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو بظاہر کسی مذہب کو مانتے ہیں مگر حقیقت میں پیروی اپنے ہی خےالات کی کرتے ہیں ۔ وہ اپنے عقائد اور قوانین پر عمل کے لیے مذہب کی طرح رجوع نہیں کرتے بلکہ خودا پنی طبیعت کے رجحان یا دلچسپی یا اغراض و حاجات کے لحاظ سے کچھ عقائد اپنے ذہن میں جمالیتے ہیں، عمل کے کچھ طور طریقے اختیار کرلیتے ہیں اور پھر کوشش کرتے ہیں کہ مذہب کو ان کے مطابق ڈھال لیں، گویا درحقیقت وہ مذہب کے پیرو نہیں ہوتے بلکہ مذہب ان کا پیرو ہوتا ہے۔

تیسری قسم میں وہ لوگ ہیں جو خود اپنی سمجھ بوجھ سے کام نہیں لیتے۔ اپنی عقل کو معطل رکھتے ہیں اور آنکھیں بند کرکے دوسروں کی تقلید کرنے لگتے ہیں خواہ وہ ان کے باپ دادا ہوں، یا ان کے ہم عصر۔

پہلا گروہ آزادی کے نام پر مرتا ہے مگر نہیں جانتا کہ اس کے صحیح حدود کیا ہیں، فکر و عمل کی آزادی بلاشبہ ایک حد تک صحیح ہے۔ مگر جب وہ اپنی حد سے تجاوز کرجاتی ہے تو گمراہی بن جاتی ہے۔ جو شخص ہر معاملہ میں صرف اپنی رائے پر اعتماد کرتا ہے، ہر مسئلے میں صرف اپنی عقل کو حکم ماننا ہے، وہ دراصل اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اس کے علم اور اس کی عقل نے دنیا بھر کے تمام امور کا احاطہ کرلیا ہے۔ کوئی حقیقت اور مصلحت اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہر منزل کی راہ و رسم سے وہ باخبر ہے۔ ہر مسلک کی پیچیدگیوں کا اسے علم ہے ہر رستے کی انتہا کو بھی وہ اسی طرح جانتا ہے جس طرح اس کی ابتداءکو یہ علم اور ہوشمندی کا زعم درحقیقت ایک زعم باطل ہے اور اگر انسان صحیح معنوں میں خود اپنی عقل کو حکم بنائے تو خود عقل ہی یہ کہہ دے گی کہ میرا اندھا مقلد مجھ کو جن صفا سے متصف سمجھتا ہے، حقیقتہً میں ان سے متصف نہیں ہوں۔ مجھ کو اپنا واحد رہنما سمجھنے والا، صرف میری رہنمائی میں زندگی کی راہ طے کرنے والا ٹھوکروں، لغزشوں، گمراہیوں اور ہلاکتوں سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

اس قسم کی حریت فکر و عمل، تمدن و تہذیب کے لیے بھی مہلک ہے۔ حریت کا اقتضا یہ ہے کہ ہر شخص وہی اعتقاد رکھے جو خود اس کے اپنے خیال میں صحیح ہو اور اسی راہ پر چلے جو اس کی اپنی عقل کے مطابق درست ہو ۔تمدن و تہذیب کا اقتضا یہ ہے خہ ایک نظام تمدن میں جتنے لوگ ہیں وہ سب چند بنیادی عقائد و افکار میں متفق ہوں اور اپنی عملی زندگی میں ان مخصوص اطوار و آداب اور قوانین کی پیر وی کریں جو حیات اجتماعی کی تنظیم کے لیے مقرر کردیئے گئے ہیں۔ پس حریت فکر و عمل اور تمدن و تہذیب میں کھلی ہوئی منافات ہے۔ حریت، افراد میں خود سری، بے قیدی اور انارکی پیدا کرتی ہے۔ تمدن ان سے اتباع، پیروی اور تسلیم و اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ جہاں کامل حریت ہوگی وہا ں تمدن نہ ہوگا۔ اور جہاں تمدن ہوگا وہاں افراد کو ایک بڑی حد تک حریت فکر و عمل سے دست کش ہونا پڑے گا۔

دوسرے گروہ کا حال پہلے گروہ سے زیادہ برا ہے۔ پہلا گروہ صرف گمراہ ہے۔ دوسرا گروہ اس کے ساتھ جھوٹا، منافق، دھوکہ باز اور بدطینت بھی ہے۔ اگر تاویل کے جائز حدود میں رہ کر ایک شخص اپنے مذہب اور اپنے تخیلات و رجحانات میں مواقفت پیدا کرسکتا ہو تو حریت فکر و عمل کے ساتھ مذہب کا اتباع ممکن ہے۔ اگر انسان کے اپنے رجحانات مذہب کے خلاف ہوں اور اس کے باوجود وہ مذہب کو صحیح اور اپنے رجحانات کو غلط سمجھتا ہو، تب بھی ایک حد تک اس کا یہ دعویٰ صحیح ہوگا کہ وہ واقعی اس مذہب کو مانتا ہے جس کی پیروی اک دعویٰ کررہا ہے، لیکن اگر مذہب کی واضح تعلیمات سے اس کے عقائد اور اعمال صریحاً مختلف ہوں اور وہ اپنے خیالات کو صحیح اور مذہب کی تعلیم کو غلط سمجھتا ہو اور وہ پھر اپنے آپ کو مذہب کے دائرے میں شامل رکھنے کے لیے مذہبی تعلیمات کو اپنے خےالات اور طور طریقوں کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کرے تو ایسے شخص کو ہم کو دن نہیں کہیں گے کیونکہ کوئی دن سے اتنی ہوشیاری کا کام کہاں بن آتا ہے؟ ہمیں مجبوراً اس کو بے ایمان کہنا پڑے گا۔ ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ اس میں مذہب سے اعلانیہ بغاوت کرنے کے لیے کافی اخلاقی جرات نہیں ہے اس لیے وہ منافقت ی راہ سے مذہب کا پیرو بنتا ہے، ورنہ کون سی چیز اس کے لیے ایک ایسی مذہب کو چھوڑ دینے میں منانع ہے جس کی تعلیمات اس کی عقل کے فیصلوں کے خلاف ہیں ، اس کے حقیقی افکار و عقائد کی ضد واقع ہوئی ہیں۔ اور اسے ان طریقوں پر چلنے سے روکتی ہیں جن پر وہ سچے دل سے چلنا چاہتا ہے اور واقع میں چل بھی رہا ہے۔

تیسرا گروہ اپنے مرتبہ عقلی کے لحاظ سے سب سے زیادہ فروتر ہے۔ پہلے دونوں گروہوں کی غلطی تو یہ ہے کہ وہ عقل سے اتنام کام لیتے ہیں جتنا وہ نہیں کرسکتی۔ اور اس گروہ کی غلطی یہ ہے کہ سرے سے عقل سے کام ہی نہیں لیتا یا لیتا ہے تو اتنا کم کہ نہ لینے کے برابر۔ ایک صاحة عقل انسان کے لیے اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ کسی عقیدہ کا معتقد ہو اور اس اعتقاد کے حق میں اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی دلیل نہ ہو کہ اس کے باپ دادا بھی یہی اعتقاد رکھتے تھے۔ یا فلاں قوم جو بڑی ترقی یافتہ ہے، وہ بھی اسی عقیدہ کی معتقد ہے۔ اس طرح جو شخص اپنی دینی یا دنیاوی معاملات میں بعض طریقوں کی صرف اس لیے پیروی کرتا ہو کہ باپ دادا سے وہی طریقے چلے آرہے ہیں ، یا بعض طریقوں کو صرف اس بنا پر اختیار کرتا ہوں کہ اس کے عہد کی غالب قوموں میں وہی طریقے رائج ہیں، وہ دراصل اس امر کا ثبوت دیتا ہے کہ خود اس کے جمجمے میں دماغ اور دماغ میں سوچنے کی قابلیت نہیں ہے۔ اس کے پاس خود کوئی ایسی قوت نہیں ہے جس سے وہ صحیح اور غلط میں تمیز کرسکتا ہو۔ اتفاقاً وہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوگیا اس لیے ہندو مذہب کو صحیح سمجھتا ہے، اگر مسلمان گھر میں پیدا ہوتا تو اسلام کو برحق مانتا ، اگر عیسائی کی اولاد ہوت تو عیسائیت پر جان دیتا۔ اسی طرح یہ بھی اتفاق ہے کہ اس کے عہد میں فرنگی قومیں برسراقتدار ہیں اس لیے وہ فرنگی طور طریقوں و معیار تہذیب سمجھتا ہے۔ اگر چینی برسراقتدار ہوتے تو یقینا اس کے نزدی کچینی طور طریقے معیار تہذیب ہوتے اور اگر آج دنیا پر افریقہ کے حبشیوں کا تسلط ہوجائے تو کوئی شک نہیں کہ یہ خفیف العقل انسان حبشیت کو انسانیت کا عطر سمجھنے لگے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے صحیح یا برحق ہونے کے لیے یہ کوئی دلیل ہی نہیں ہے کہ بزرگوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے، یا دنیا میں آج کل ایسا ہی ہورہا ہے۔ دنیا میں تو پہلے بھی حماقتیں ہوئی ہیں اور اب بھی ہورہی ہیں۔ ہمارا کام ان حماقتوںکی اندھا دھند پیروی کرنا نہیں ہے۔ ہمارا کام یہ نہیں کہ آنکھیں بند کرکے قدیم یا جدید زمانے کے ہر طریقے کی پیروی کرنے لگیں اور ہر راہرو کے دامن سے دامن باندھ کر چل کھڑے ہوں خواہ وہ کانٹوں کی طرف جارہا ہوں یا خندق کی طرف۔ ہمیں خدا نے عقل اسی لیے دی ہے کہ دنیا کے اچھے برے میں تمیز کریں، کھوٹے اور کھرے کو پرکھ کر دیکھیں، کسی کو رہنما بنانے سے پہلے اچھی طرح دیکھ لیں وہ کدھر جانے والا ہے۔

اسلام ان تینوں گروہوں کا غلط کار ٹھہراتا ہے۔

پہلے گروہ کے متعلق وہ کہتا ہے کہ نہ تو یہ لوگ کسی روشنی والے کو ہادی اور رہنما مانتے ہیں، نہ ان کے پاس خود ہی حق کا نور ہے کہ اس کے اجالے میں راہ طے کریں۔ ان کی مثال ایسے شخض کی سی ہے جو اندھیرے میں محض اندازے اور اٹل سے چل رہا ہو۔ ممکن ہے کہ کہیں سیدھے رستے چلے، اور ممکن کہیں گڑھے میں جاپڑے، اس لیے کہ اندازہ کوئی یقینی چیز نہیں ہے۔ اس میں صحت اور غلطی دونوں خا امکان ہے بلکہ زیادہ تر امکان ہی کا ہے۔

وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاءط ان یتبعون الاالظن و ان ھم الا یخرصون (یونس۔۶۶)

جو لوگ خدا کے سودا دوسروں کو خدائی کا حصہ دار ٹھہراتے اور ان کو پکارتے ہیں وہ جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کے پیرو ہیں؟ وہ صرف گمان کے پیرو ہیں اور محض اندازے پر چلتے ہیں۔

ان یتبعون الا الظن ج و ان الظن لایعنی من الحق شیا ج (النجم ۔۸۲)

وہ محض گمان پر چلتے ہیں اور گمان کا حال یہ ہے کہ وہ حق کی ہدایت سے ذرہ برابر بھی بے بنیاد نہیں کرتا۔

ان تیبعون الا الظن وما تھوی الانفس ج ولقد جاءھم من ربھم الھدی ط ام للانسان ماتمی (النجم ۳۲۔۴۲

وہ گمان اور اپنے نفس کی خواہشآت کے سوا کسی اور چیز کی پیروی نہیں کرتے حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔ کیا انسان کے لیے وہی چیز حق ہے جس کی وہ تمنا کرے۔

ترجمہ:کیا تو نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنا خدا بنا لیا؟باوجودیہ کہ وہ علم رکھتا ہے مگر اللہ نں اسں گمراہ کردیا اس کں کانوں اور اس کں دل پر مہر لگادی اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللہ کے بعد کون ہے جو اس کی رہنمائی کرے گا۔(الجاثیہ۔۳)

ترجمہ:اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جس نے اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنے نفس کی پیروی کی؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں دیتا۔(لقصص۔۰۵)

نزول قرآن کے زمانے میں دوسرے گروہ کے نمائندے بنی اسرائیل تھے۔ اپنے آپ کو موسوی اورمتبع توراة کہا کرتے تھے۔ مگر عقائد اور معاملات میں اکثر وبیشترموسیٰ علیہ السلام کے طریقے اور تورات کی تعلیم کے خلاف تھے۔اس پر لطف یہ تھا کہ اپنے اس انحراف پر نادم بھی نہ تھے۔ بجائے اس کے کہ اپنے خیالات اور اعمال کو توراة کے مطابق ڈالتے وہ تورات میں لفظی ومعنوی تحریفیں کرکے اس کو اپنے افکار واعمال کے مطابق ڈھال لیا کرت تھے۔ تورات کی اصلی تعلیمات کو چھپا کر اپنے خیالات کو اس طرح پیش کرتے تھے کہ گویا وہی دراصل تورات کی تعلیمات ہیں۔ خدا کے جو بندے انہیں اس گمراہی پر متنبہ کرتے اور ان کی خواہشات کے خلاف کلام الٰہی کے اتباع کی دعوت دیتے تھے‘ ان کو وہ گالیاں دیتے‘ جھوٹا قرار دیتے‘ حتیٰ کہ قتل تک کردیتے تھے۔ ان کے متعلق قرآن کہتا ہے:

ترجمہ:وہ الفاظ کو ان کے مواقع سے پھیر دیتے ہیں اور انہوں نے بہت سی ان نصیحتوں کو بھلا دیا ہے جو انہیں کی گئی تھیں۔ تمہیں برابر ان کی کسی نہ کسی چوری کی اطلاع ملتی رہتی ہے اس خیانت سے ان کے بہت کم آدمی بچے ہوئے ہیں۔(المائدہ۔۳۱)

ترجمہ:اے اہل کتاب تم کیوں حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرتے ہو اور کیوں جانتے بوجھتے حق پر پردہ ڈالتے ہو۔(ال عمران۔۱۷)

ترجمہ:جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ایسا پیغام لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہشوں کے مطابق نہ تھا‘ تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کردیا۔ اور پھر ان سے صاف کہہ دیتا ہے۔(المائدہ(۰۷)

ترجمہ:تم ہرگز راہ راست پر نہیں ہو‘ تاوقتیکہ تورات اور انجیل کو قائم نہ کرو اور اس کتاب کو نہ مانو جو تمہارے رب کے پاس سے تمہاری طرف اتاری گئی(یعنی قرآن)(الماعدہ(۸۶)

تیسرے گروہ کے متعلق قرآن کہتا ہے:

ترجمہ:اور جب ان سے کہا گیا کہ اس ہدایت پر چلو جو اللہ نے اتاری ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو اسی طریقہ پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا وہ اپنے باپ دادا ہی کی پیروی کریں گے چاہے وہ کبھی نہ سمجھتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہو۔(البقرہ۔۰۷۱)

ترجمہ:اورجب ان سے کہا گیا کہ آﺅ اس چیز کی طرف جو اللہ نے اتار ہے‘ اور آﺅ رسول کی طرف تو انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا وہ طریقہ اس صورت میں بھی ان کے لیے کافی ہے جب کہ ان کے باپ دادا کچھ نہ جانتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہوں۔(المائدہ۔۴۰۱)

ترجمہ:اور اگر تو نے بہت سے ان لوگوں کی پیروی کی جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے اللہ کے رستے سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض گمان پر چلتے ہیں اور ان کا طریقہ بالکل اٹکل اور اندازہ پر ہے۔(الانعام۔۶۱۱)

جو لوگ خود اپنی عقل وفہم سے کام نہیں لیتے‘ خود کھوٹے اور کھرے کو نہیں پرکھتے‘ آنکھیں بند کرکے دوسروں کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کو قرآن اندھا‘ گونگا‘ بہرہ بے عقل قرار دیتا ہے۔ترجمہ:اور انہیں جانوروں سے تشیہہ دیتا ہے بلکہ ان سے بھی بدتر“ جانور تو عل رکھتا ہی نہیں اور وہ عقل رکھتے ہیں مگر اس سے کام نہیں لیتے۔

ترجمہ:ان تینوں گروہوں کو جن کے طریقے افراط وتقریط پر مبنی ہیں‘ رد کردینے کے بعد قرآن ایسے لوگوں کا ایک گروہ بنانا چاہتا ہے جو اعتدال اوتوسط کی راہ پر ہوں۔(الاعراف۔۹۷۱)

یہ اعتدال اور توسط کی راہ کیا ہے؟ یہ کہ پہلے تم ان سب پردوں کو چاک کردو جو قدیم روایات اور جدید تعلیمات نے تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈال رکھے ہیں‘ عقل سلیم کی صاف روشنی میں آنکھیں کھولا اور دیکھو کیا چیز حق ہے اور کیا چیز باطل؟ دہریت صحیح ہے یا خدا پرستی؟ توحید صحیح ہے یا شرک؟ انسان راہ راست پر چلنے کے لیے خدا کی ہدایت کا محتاج ہے یا نہیں؟ انبیاءعلیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے تھے یا معاذ اللہ جھوٹے؟ قرآن جس طریقہ کو پیش کرتا ہے وہ سیدھا ہے یا ٹیڑھا؟ اگر تمہارا دل گواہی دے کر خدا کو ماننا انسانی فطرت کا عین مقتضی ہے اور خدا حقیقت میں وہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے‘ اگر تمہارا ضمیر تسلیم کرے کہ انسان سیدھی راہ پانے کے لیے خدا کی بخشی ہوئی روشنی کا یقینا محتاج ہے اور یہ روشنی وہی ہے جو نوع بشری کے سچے رہبر انبیاءعلیہم السلام لے کر آئے ہیں‘ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو دیکھ کر تم کو یقین آجائے کہ اس اعلیٰ سیرت کا انسان ہرگز دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتا اور انہوں نے جب رسل خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو وہ ضرور اپنے دعوے میں سچے ہیں‘ اگر قرآن کا مطالعہ کرکے تمہاری عقل یہ فیصلہ کردے کہ انسان کے لیے اعتقاد اور عمل کا سیدھا راستہ وہی ہے جو اس کتاب نے پیش کیا ہے اور یہ کتاب یقینا کتاب الٰہی ہے ‘ تو تمام دنیا کی ملامت و مخالفت سے بے خوف ہوکر ہر انسان کے ڈڑ اور فائدے کے لالچ سے دل کو پاک کرکے اس چیز پر ایمان لے آﺅ جس کی صداقت پر تمہارا ضمیر گواہی دے رہا ہے۔

پھر جب تم نے عقل سلیم کی مدد سے حق اور باطل میں تمیز کرلی‘ اور باطل کو چھوڑ کر حق پر ایمان لے آئے۔ تو عقل کے امتحان اور اس کی تنقید کا کام ختم ہوگیا ایمان لانے کے بعد فیصلہ کرنے اور حکم دینے کا اختیار عقل سے خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی طرف منتقل ہوگیا۔ اب تمہارا کام فیصلہ کرنا ن ہیں بلکہ ہر اس حکم کے آگے سرجھکادینا ہے جو خدا اور اس کے رسول نے تم کو دیا ہے۔ تم اپنی عقل کو ان احکام کے سمجھنے، ان کی باریکیوں اور حکمتوں تک پہنچنے، اور ان کو اپنی زندگی کی جزئیات پر منطبق کرنے میں استعمال کرسکتے ہو۔ مگر کسی حکم خداوندی میں چون و چرا کرنے کا حق تم کو نہیں ہے۔ خواہ کسی حکم کی مصلحت تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے، خواہ کوئی حکم تمہاری عقل کے معیار پر پورا اترے یا نہ اترے، خواہ اللہ کا ارشاد اور رسول کا فرمان دنیا کے رسم و رواج اور طور طریقوں کے مطابق ہو یا منافی، تمہارا کام بہرحال اس کے آگے سر جھکادینا۔ ہے۔ کیوں کہ جب تم نے خدا کو مان لیا۔ رسول کو خدا کا رسول تسلیم کرلیا اور یقین کرلیا کہ خدا کا رسول جو کچھ پیش کرتا ہے خدا کی طرف سے پیش کرتا ہے، اپنے دل سے گھڑی ہوئی کوئی بات پیش نہیں کرتا۔ تو اس یقین و اذعان کا عقلی تقاضہ یہ ہے کہ تم خود اپنی عقل کے فیصلوں پر کتاب اللہ اور سنت رسول کے فیصلوں کو ترجیح دو اور جو عقائد یا امرونہی کے احکام خدا کی طرف سے خدا کے رسول نے بیان کئے ہیں ان کو اپنی عقل، اپنے علم، اپنے تجربات، یا دوسرے اہل دنیا کے افکار و اعمال کے عمیاری پر جانچنا چھوڑ دو۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں مومن ہوں اور پھر چون و چرا بھی کرتا ہے۔ وہ اپنے قول کی آپ تردید کرتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ ایمان اور چون و چرا میں کھلا ہوا تقاضا ہے۔ اس کا معلوم نہیں کہ ڈسپلین صرف ماننے اور اطاعت کرنے سے قائم ہوتا ہے۔ چون و چرا کا دوسرا نام انار کی ہے۔

اسی اعتدال اور توسط کے طریقہ کا نام ”اسلام“ ہے اور جو گروہ اس راستہ پر چلتا ہو اس کا نام ”مسلم“ ہے۔

اسلام کے معنی انقیاد، اطاعت اور تسلیم کے ہیں اور مسلم وہ ہے جو حکم دینے والے کے امر اور منع کرنے والے کے نہی کو بلا اعتراض تسلیم کرے۔ پس یہ نام خود ہی اس حقیقت کا پتہ دے رہا ہے کہ ان تینوں گروہوں اور ان کے طریقوں کو چھوڑ کر یہ چوتھا گروہ ایک نئے مسلک کے ساتھ اسی لیے قائم کیا گیا ہے کہ یہ خدا اور رسول کے حکم کو مانے اور اس کے آگے سرجھکادے۔ اس گروہ کا کام یہ نہیں ہے کہ ہر معاملے میں صرف اپنی عقل کی پیروی کر‘ نہ یہ ہے کہ احکام الہٰی میں سے جو کچھ اس کی اغراض کے مطابق ہو اس کو مانے اور جو اغراض کے خلاف ہو اس کو رد کردے، نہ یہ کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کو چھوڑ کر انسانوں کی اندھی تقلید کرے خواہ وہ انسان مردہ ہو یا زندہ۔

اب اس بات میں قرآن مجید کی تصریحات بالکل صاف ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ جب کسی معاملہ میں خدا اور رسول کا حکم آجائے تو مومنوں کو ماننے یا نہ ماننے کا اختیار باقی نہیں رہتا۔

ترجمہ: کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں کہ جب کسی معاملہ میں اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کردے تو ان کے لیے اپنے اس معاملہ میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔

وہ کہتا ہے کہ کتاب اللہ میں سے کچھ کو ماننا اور کچھ کو رود کردینا۔ دنیا اور آخرت میں رسوا کن ہے۔

ترجمہ: کیا تم کتاب کی بعض باتوں کو مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے؟ تم میں سے جو کوئی ایسا کرتا ہے اس کی سزا بجزا اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کے رسوائی ہو اور آخرت میں ایسے لوگ شدید ترین عذاب کی طرف پھیردئیے جائیں گے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

وہ کہتا ہے کہ فیصلہ صرف کتاب الہیٰ کے مطابق ہونا چاہیئے۔ خواہ وہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہو یا نہ ہو۔

ترجمہ: تو ان کے درمیان اسی کتاب کے مطابق فیصلہ کر جو اللہ نے اتاری ہے اور جو حق تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔

وہ کہتا ہے کہ جو شخص کتاب اللہ کے موافق فیصلہ نہیں خرتا وہ فاسق ہے۔ ترجمہ: اور ہر فیصلہ جو کتاب الہیٰ کے خلاف، جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ (المائدہ ۰۵)

وہ کہتا ہے کہ اے ایمان لانے والو‘ اللہ اور اس کے رسول اور اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو اور اگر تم حقیقت میں اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو تو جس کسی معاملہ میں تمہارے درمیان نزاع پیدا ہو، اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ یہی بہتر طریقہ ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی یہی اچھا ہے۔ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تیری جانب بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تجھ سے پہلے بھیجی گئی تھیں مگر چاہتے ہیں کہ خدا کے نافرمان انسان کو اپنے معاملہ میں حکم بنائیں حالاں کہ انہیں اس کے چھوڑدینے کا حکم دیا گیا ہے اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بھٹکا کر راہ راست سے دور ہٹالے جائے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ آﺅ اس کتاب کی طرف جو اللہ نے ا تاری ہے اور آﺅ رسول کی طرف تو تو نے منافقین کو دیکھا کہ وہ تجھ سے کنی کاٹا جاتے ہیں…. ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے، اس لیے بھیجا ہے کہ کہ حکم الہیٰ کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے…. نہیں! تیرے پردوردگار کی قسم وہ ہرگز بھی کافی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ جو فیصلہ تو کرے اس پر وہ اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور بے چون و چرا اس کےا آگے سرجھکادیں۔“ (النساء۸‘۹)

ان تصریحات سے ”اسلام “ اور ”مسلم“ کی وجہ تسمیہ معلوم ہوگئی۔ اب ہم سب لوگوں کو جنہوں نے مردم شماری میں اپنے آپ کو مسلم لکھوایا ہے غور کرنا چاہیے کہ ہم پر لفظ مسلم کا اطلاق کس حد تک ہوتا ہے اور جس طریقہ پر ہم چل رہے ہیں اس کو اسلام سے تعبیر کرنا کہاں تک درست ہے؟

(ترجمان القرآن۔ رجب۲۵ھ نومبر۳۳۹۱ئ)

One response

11 05 2008
مسلمان کا حقیقی مفہوم « Moudodi

[...] view whole article [...]

Leave a comment