مسلمان کی طاقت کا اصلی منبع
دوسری صدری ہجری کی ابتداءکا واقعہ ہے کہ سجستان درحج کے فرماں رواں نے جس کا خاندانہ لقب رتبیل تھا بنی امیہ کے عمال کو خراج دینا بند کردیا۔ پیہم چڑھائیاں کی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔ یزید بن عبدالمالک اموی کے عہد میں جب اس کے پاس طلب خراج کے لےے سفارت بھیجی گئی تو اس سے مسلمانوں کے سفراءسے دریافت کیا:
”وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے؟ ان کے پیٹ فاقہ زدوں کی طرح پٹخے ہوئے ہوتے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ گٹے پڑے رہتے تھے اور کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے“
”اگرچہ تمہاری صوررتیں ان سے زیادہ شاندار ہیں‘ مگر وہ تم سے زیادہ عہد کے پابند تھے تم سے زیادہ طاقتور تھے“
مورخ لکھتا ہے کہ یہ کہ کر رتبیل نے خراج ادا کرنے سے انکار کردیا اور تقریباً نصف صدی تک اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔
یہ اس عہد کا واقعہ ہے جب تابعین و تبع تابعین کثرت سے موجود تھے۔ آئمہ مجتہدین کا زمانہ تھا۔ نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم کے وصال کو صرف ایک صدی گزری تھی۔ مسلمان ایک زندہ اور طاقتور قوم کی حیثیت سے دنیا پر چھا رہے تھے‘ ایران‘ روم‘ مصر‘ افریقا‘ اسپین وغیرہ ممالک کے وارث ہوچکے تھے اور ساز و سامان‘ شان و شوکت اور دولت و ثروت کے اعتبار سے اس وقت دنیا کی کوئی قوم ان کے ہم پلہ نہ تھی۔ سب کچھ تھا۔ دلوں میں ایمان بھی تھا۔ احکام شریعت کی پابندی اب سے بہت زیادہ تھی‘ سمع و طاعت کا نظام قائم تھا۔ پوری قوم میں ایک زبردست ڈسپلن پایا جاتا تھا۔ مگر پھر بھی جو لوگ عہد صحابہ کے فاقہ کش خستہ حال صحرا نشینوں سے زور آزمائی کرچکے تھے انہوں نے ان سروسامان والوں اور ان بے سرو سامانوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق محسوس کیا۔ یہ کس چیز کا فرق تھا؟ فلسفہ تاریخ کے والے اس کو محض بداوت و حضریت کے فرق پر محمول کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ پرانے بادیہ نشین زیادہ جفا کش تھے اور بعد کے لوگوں کو دولت اور تمدن نے عیش پسند بنادیا تھا۔ مگر میں کہوں گا کہ یہ فرق دراصل ایمان‘ خلوص‘ نیت‘ اخلاق اور اطاعت خدا اور رسول کا فرق تھا۔ مسلمانوں کی اصلی قوت یہی چیزیں تھیں‘ ان کی قوت نہ کثرت تعداد پر مبنی تھی‘ نہ اسباب و آلات کی افراط پر‘ نہ مال و دولت پر‘ نہ علوم و صناعت کی مہارت پر‘ نہ تمدن وحضارت کے لواز پر‘ وہ صرف ایمان و عمل صالح کے بل پر ابھرے تھے۔ اسی چیز نے ان کو دنیا میں سربلند کیا تھا۔ اسی نے قوموں کے دلوں میں ان کی دھاک اور ساکھ بٹھادی تھی۔ جب قوت و عزت کا یہ سرمایہ ان کے پاس تھا تو یہ قلت تعداد اور بے سروسامانی کے باوجود طاقت ور اور معزز تھے۔ اور جب یہ سرمایہ ان کے پاس کم ہوگیا تو کثرت تعداد اور سرو سامان کی فراوانی کے باوجود کمزور او بے وقعت ہوتے چلے گئے۔
رتبیل نے ایک دشمن کی حیثیت سے جو کچھ کہا وہ دوستوں اور ناصحوں کے ہزار وعظوں سے زیادہ سبق آموز ہے۔ اس نے دراصل یہ حقیقت بیان کی تھی کہ کسی قوم کی اصلی طاقت اس کی آراستہ فوجیں‘ اس کے آلات جنگ‘ اس کے خوش رو خوش پوش سپاہی‘ اور اس کے وسیع ذرائع و وسائل نہیں ہیں بلکہ اس کے پاکیزہ اخلاق‘ اس کی مضبوط سیرت‘ اس کے صحیح معاملات اور اس کے بلند تخیلات ہیں۔ یہ طاقت وہ روحانی طاقت ہے جو مادی وسائل کے بغیر دنیا میں اپنا سکہ چلادیتی ہے۔خاک نشینوں کو تخت نشینوں پر غالب کردیتی ہے۔ صرف زمینوں کا وارث ہی نہیں بلکہ دلوں کا مالک بھی بنادیتی ہے۔ اس طاقت کے ساتھ کھجور کی چپلیں پہننے والے‘ سوکھی ہڈیوں والے‘ بے رونق چہروں والے ‘ چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی تلواریں رکھنے والے لوگ دنیا پر وہ رعت‘ وہ سطوت و جبروت‘ وہ قدر و منزلت وہ اعتبار و اقتدار جمادیتے ہیں جو اس طاقت کے بغیر شاندار لباس پہننے والے‘ برے ڈیل ڈول والے‘ بارونق چہروں والے‘ اونچی بارگاہوں والے‘ بڑی بڑی منجیقیں اور ہولناک دبابے رکھنے والے نہیں جماسکتے۔ اخلاقی طاقت کی فراوانی مادی وسائل کے فقدان کی تلافی کردیتی ہے۔ مگر مادی وسائل کی فراوانی اخلاقی طاقت کے فقدان کی تلافی کبھی نہیں کرسکتی۔ اس طاقت کے بغیر محض مادی وسائل کے فقدان کی تلافی کردیتی ہے۔ مگر مادی وسائل کی فراوانی اخلاقی طاقت کے فقدان کی تلافی بھی نہیں کرسکتی۔ اس طاقت کے بغیر محض مادی وسائل کے ساتھ اگر غلبہ نصیب ہو بھی گیا تو ناقص اور عارضی ہوگا۔ کامل اور پائدار نہ ہوگا۔ دل کبھی مسخر نہ ہوں گے۔ صرف گردنیں جھک جائیں گی اور وہ بھی اکڑنے کے پہلے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لےے مستعد رہیں گی۔
کسی عمارت کا استحکام اس کے رنگ و روغن‘ نقش و نگار‘ زینت و آرائش صحن و چمن اور ظاہری خوشنمائی سے نہیں ہوتا۔ نہ مکینوں کی کثرت‘ نہ ساز و سامان کی افراط اور اسباب و آلات کی فراوانی اس کو مضبوط بناتی ہے۔ اگر اس کی بنیادیں کمزور ہوں‘ دیواریں کھوکھلی ہوں‘ ستون کو گھن لگ جائے‘ کڑیاں اور تختے بوسیدہ ہو جائیں تو اس کو گرنے سے کوئی چیز نہیں بچاسکتی‘ خواہ وہ مکینو سے خوف معمور ہو اور اس میں کروڑوں روپے کا مال و اسباب بھرا پڑا ہو اور اس کی سجاوٹ نظروں کو لبھاتی اور دلوں کو موہ لیتی ہو۔ تم صرف ظاہر کو دیکھتے ہو۔ تمہاری نظریں مد نظر پر اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ مگر حوادث زمانہ کا معاملہ نمائشی مظاہر سے نہیں بلکہ اندرونی حقائق سے پیش آتا ہے۔ وہ عمارت کی بنیادوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ دیواروں کی پختگی کا امتحان لیتے ہیں۔ ستونوں کی استواری کو جانچتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں مضبوط اور مستحکم ہوں تو زمانے کے حوادث ایسی عمارت سے ٹکرا کر پلٹ جائیں گے اور وہ ان پر غالب آجائے گی خواہ وہ زینت و آرائش سے یکسر محروم ہو۔ ورنہ حوادث کی ٹکریں آکر کار اس کو پاش پاش کرکے رہیں گی اور وہ اپنے ساتھ مکینوں اور اسباب زینت کو بھی لے بیٹھے گی۔
ٹھیک یہی حال حیات قومی کا بھی ہے۔ ایک قوم کو جو چیز زندہ اور طاقتور اور سربلند بناتی ہے وہ اس کے مکان اس کے لباس اس کی سواریاں اس کے اسباب عیش اس کے فنون لطیفہ اس کے کارخانے اس کے کالج نہیں ہیں بلکہ وہ اصول ہیں جن پر اس کی تہذیب قائم ہوتی ہے۔ اور پھر ان اصولوں کا دلوں میں راسخ ہونا اور اعمال پر حکمراں بن جانا ہے۔ یہ تین چیزیں اصول کی صحت ان پر پختہ ایمان اور عملی زندگی پر ان کی کامل فرماں روائی‘ حیات قومی میں وہی حیثیت رکھتی ہیں جو ایک عمارت میں اس کی مستحکم بنیادوں‘ اس کی پختہ دیواروں اور اس کے مضبوط ستونوں کی ہے۔ جس قوم میں یہ تینوں چیزیں بدرجہ اتم موجود ہوں۔ وہ دنیا پر غالب ہو کر رہے گی۔ اس کا کلمہ بلند ہوگا‘ خدا کی زمین میں اس کا سکہ چلے گا‘ دلوں میں اس کی دھاک بیٹھے گی‘ گردنیں اس کے حکم کے آگے جھک جائیں گی اور اس کی عزت ہوگی‘ خواہ وہ جھونپڑیوں میں رہتی ہو‘ پھٹے پرانے کپڑے پہنتی ہو‘ فاقوں سے اس کے پیٹ پٹخے ہوئے ہوں‘ اس کے ہاں ایک بھی کالج نہ ہو‘ اس کی بستیوں میں ایک بھی دھواں اڑانے والی چمنی نظر نہ آئے اور علوم وصناعات میں وہ بالکل صفر ہو‘ تم جن چیزوں کو سامان ترقی سمجھ رہے ہو وہ محض عمارت کے نقش و نگار ہیں‘ اس کے قوائم و ارکان نہیں ہیں۔ کھوکھلی دیواروں پر اگر سونے کے پترے بھی چڑھادوں گے تو وہ ان کو گرنے سے نہ بچاسکیں گے۔
یہی بات ہے جس کو قرآن مجید بار بار بیان کرتا ہے۔
وہ اسلام کے اصولوں کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس اٹل اور غیر متغیر فطرت کے مطابق ہیں جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس لےے جو دین ان اصولوں پر قائم کیا گیا ہے وہ دین قیم ہے۔ یعنی ایسا دین جو معاش و معاد کے جملہ معاملات کو ٹھیک ٹھیک طریقوں پر قائم کردینے والا ہے۔
پھر وہ کہتا ہے کہ اس دین قیم پر مضبوطی کے ساتھ جم جاﺅ‘ اس پر ایمان لاﺅ اور اس کے مطابق عمل کرو۔ اس کا نتیجہ خود بخود ظاہر ہوگا کہ دنیا میں تم ہی سربلند ہو گے تم ہی کو زمین کا وارث بنایا جائے گا‘ تم ہی خلعت خلافت سے سرفراز ہوگے۔
بخلاف اس کے جو لوگ بظاہر دین کے دائرے میں داخل ہیں مگر دین نہ تو ان کے دلوں میں بیٹھا ہے اور نہ ان کی زندگی کا قانون بناہے‘ ان کے ظاہر تو بہت شاندار ہیں۔ واذا رایتھم تعجبک اجسامھم ‘ اور ان کی باتیں بہت مزیدار ہیں۔ وان یقولو تسمع لقولھم‘ مگر حقیقت میں وہ لکڑی کے کندے ہیں جن میں جان نہیں‘ کانھم خشب مسندہ۔ وہ خدا سے بڑھ کر انسانوں سے ڈرتے ہیں۔یخشون الناس کخشیتہ اللہ او اشد خشیتہ۔ ان کے اعمال سراب کی طرح ہیں کہ دیکھنے میں پانی نظر آئیں مگر حقیقت میں کچھ نہیں۔ اعمالھم کسراب بقیعتہ یحسبہ الظما ان ماءحتی اذا جاءہ لم یجدہ شی<!–[if !supportFootnotes]–>
<!–[endif]–>¿ا۔ ایسے لوگوں کو اجتماعی قوت کبھی نصیب نہیں ہوسکتی کیونکہ ان کے دل آپس میں پھٹے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ خلوص نیت کے ساتھ کسی کام میں اشتراک عمل نہیں کرسکتے۔ باسہم شیلد تحسبھم جمیعاو قلوبھہم شئی۔ ان کو وہ قوت ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی جو صرف مومنین کا حصہ ہے۔ ان کے لےے بجز اس کے اور کوئی انجام نہیں کہ دنیا میں بھی ذلت و خواری اور آخرت میں بھی عذاب و عقاب۔
آپ تعجب کریں گے کہ قرآن نے مسلمانوں کی ترقی اور ان کے ایک حکمراں جماعت بننے اور سب پر غالب آجانے کا ذریعہ صرف ایمان و عمل صالح کو قرار دیا۔ اور کہیں یہ نہیں کہا کہ تم یونیورسٹیاں بناﺅ‘ کالج کھولو‘ کارخانے قائم کرو‘ جہاز بناﺅ‘ کمپنیاں قائم کرو‘ بینک کھولو‘ سائنس کے آلات ایجاد کرو‘ اور لباس‘ معاشرت‘ انداز و اطوار میں ترقی یافتہ قوموں کی نقل کرو۔ نیز اس نے تنزل و انحطاط اور دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کا واحد سبب بھی نفاق کو ٹھہرایا نہ کہ ان اسباب کے فقدان کو جنہیں آج کل دنیا اسباب ترقی سمجھتی ہے۔
لیکن اگر آپ قرآن کی اسپرٹ کوسمجھ لیں تو آپ کا یہ تعجب خود رفع ہوجائے گا۔ سب سے پہلی بات جس کا سمجھنا ضروری ہے یہ ہے کہ ”مسلمان“ جس شے کا نام ہے‘ اس کا قوام بجز اسلام کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔ مسلم ہونے کی حیثیت سے اس کی حقیقت صرف اسلام سے متحقق ہوتی ہے۔ اگر وہ اس پیغام پر ایمان رکھے جو محمد صلی اللہ و علیہ وسلم لائے ہیں اور ان قوانین کا اتباع کرے جن کو آنحضرت علی الصلوہ والسلام کے ذریعے سے نازل کیا گیا ہے‘ تو اس کا اسلام متحقق ہوجائے گا خواہ ان چیزوں میں کوئی چیز اس کے ساتھ شامل نہ ہو جو اسلام کے ماسوا ہیں۔ بخلاس اس کے اگر وہ ان تمام زیوروں سے آراستہ ہو جو زینت حیات دنیا کے قبیل سے ہیں۔ مگر ایمان اس کے دل میں نہ ہو اور قوانین اسلامی کے اتباع سے اس کی زندگی خالی ہو تو وہ گریجویٹ ہوسکتا ہے‘ ڈاکٹر ہوسکتا ہے‘ کارخانہ دار ہوسکتا ہے‘ بینکر ہو سکتا ہے‘ جنرل یا امیر البحر ہوسکتا ہے‘ مگر مسلمان نہیں ہوسکتا۔ پس کوئی ترقی کسی مسلمان شخص یا قوم کی ترقی نہ ہوگی جب تک سب چیزوں سے پہلے اس شخص یا قوم میں حقیقت اسلامی متحقق نہ ہوجائے۔ اس کے بغیر وہ ترقی خواہ کسی اور کی ترقی ہو مسلمان کی ترقی نہ ہوگی‘ اور ایسی ترقی ظاہر ہے کہ اسلام کا نصب العین نہیں ہوسکتی۔
پھر ایک بات تو یہ ہے کہ کوئی قوم سرے سے مسلمان نہ ہو‘ اور اس کے افکار و اخلاق اور نظام اجتماعی کی اساس اسلام کے سوا کسی اور چیز پر ہو۔ ایسی قوم کے لےے بلاشبہ یہ ممکن ہے کہ یہ ان اخلاق‘ سیاسی‘ معاشی اور عمرانی اصولوں پر کھڑی ہوسکے جو اسلام سے مختلف ہیں‘ اور اس ترقی کے منتہی کو پہنچ جائے جس کو وہ اپنے نقطہ نظر سے ترقی سمجھتی ہو۔ لیکن یہ بالکل ایک امر دیگر ہے کہ کسی قوم کے افکار‘ اخلاق‘ تمدن‘ معاشرت ‘ معیشت اور سیاست کی بنیاد اسلام پر ہو‘ اور اسلام ہی میں وہ عقیدے اور عمل دونوں کے لحاظ سے ضعیف ہو۔ ایسی قوم مادی ترقی کے وسائل خواہ کتنی ہی کثرت اور فراوانی کے ساتھ مہیا کرلے‘ اس کا ایک مضبوط اور طاقت ور قوم کی حیثیت سے اٹھنا اور دنیا میں سربلند ہونا قطعاً غیر ممکن ہے کیونکہ اس کی قومیت اور اس کے اخلاق اور تہذیب کی اساس جس چیز پر ہے‘ وہی کمزور ہے اور اسا کی کمزوری ایسی کمزوری ہے جس کی تلافی محض اوپری زینت کے سامان کبھی نہیں کرسکتے۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علوم‘ فنون اور مادی ترقی کے وسائل کی جائز اہمیت سے انکار ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ مسلمان قوم کے لےے یہ تمام چیزیں ثانوی درجہ پر ہیں۔ اساس کا استحکام ان سب پر مقدم ہے وہ جب مستحکم ہوجائے تو مادی ترقی کے وہ تمام مسائل اختیار کے جاسکتے ہیں اور کےے جانے چاہئیں جو اس بنیاد کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں لیکن اگر وہی مضحمل ہو‘ دل میں اس کی جڑیں کمزور ہوں اور زندگی پر اس کی گرفت ڈھیلی ہو‘ تو انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے قوم کے اخلاق کا فاسد ہونا سیرتوں کا بگڑ جانا‘ معاملات کا خراب ہوجانا‘ نظام اجتماعی کا سسب ہونا اور قوتوں کا پراگندہ ہوجانا ناگزیر ہے اور اس لا لازمی نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ قوم کی طاقت کمزور ہوجائے اور بین الملی قوتوں کے ترازو اس کا پلڑا روز بروز ہلکا ہوتا چلا جائے یہاں تک کہ دوسری قومیں اس پر غالب آجائیں۔ ایسی حالت میں مادی اسباب کی فراوانی اورسند یافتہ فضلا کی افراط اور زیب و زینت کی چمک دمک کسی کام نہیں آسکتی۔
ان سب سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ہے۔ قرآن حکیم نہایت وثوق کے ساتھ کہتا ہے کہ ”تم ہی سربلند ہوگے اگر تم مومن ہو“ اور ”اللہ کی پارٹی والے ہی غالب ہوں گے۔ اور جو لوگ ایمان اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے ان کو زمین کی خلافت ضرور ملے گی“۔ اس وثوق کی بنیاد کیا ہے؟ کس بنا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ دوسری قومیں خواہ کیسی ہی مادی وسائل کی مالک ہوں ان پر مسلمان صرف ایمان اور عمل صالح کے اسلحہ سے غالب آئیں گے؟
اس عقدے کو خود قرآن حل کرتا ہے
” لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو۔ خدا کو چھوڑ کر تم جن چیزوں کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی تک پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں اگرچہ وہ سب اس کام کے لےے مل کر زور لگائیں اور اگر ایک مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو اس سے وہ چیز چھڑالینے کی قدرت بھی ان میں نہیں۔ مطلوب بھی ضعیف اور اس کا طالب بھی ضعیف ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسی کرنی چاہےے تھی حالانکہ درحقیقت اللہ ہی قدرت اور عزت والا ہے (الحج ۴۷)
<!–[if !supportEmptyParas]–> <!–[endif]–>
جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں کو کارساز ٹھہرایا‘ ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کہ وہ گھر بناتی ہے حالانکہ سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے ۔(العنکبوت ۱۴)
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مادی طاقتوں پر اعتماد کرتے ہیں‘ ان کا اعتماد دراصل ایسی چیزوں پر ہے جو بذات خود کسی قسم کی بھی قوت نہیں رکھتیں۔ ایسے بے زوروں پر اعتماد کرنے کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی ویسے ہی بے زور ہوجاتے ہیں جیسے ان کے سہارے بے زور ہیں۔ وہ اپنے نزدیک جو مستحکم قلعے بناتے ہیں وہ مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہیں۔ ان میں کبھی یہ طاقت ہو ہی نہیں سکتی کہ ان لوگوں کے مقابلہ میں سر اٹھاسکیں جو حقیقی قدر و عزت رکھنے والے خدا پر اعتماد کرکے اٹھیں۔
جو طاغوت کو چھوڑ کر اللہ پر ایمان لے آیا اس نے مضبوط رسی تھام لی جو کبھی ٹوٹنے والے نہیں ہے۔(البقرہ ۶۵۲)
قرآن دعوے کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ جب کبھی اہل ایمان اور اہل کفر کا مقابلہ ہوگا تو غلبہ اہل ایمان ہی کو حاصل ہوگا۔
اور اگر وہ لوگ جنہوں ن کفر کیا ہے تم سے جنگ کریں گے تو ضرور پیٹھ پھیر جائیں گے اور کوئی یار ومددگار نہ پائیں گے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور تم کبھی اللہ کی سنت میں تغیر نہ پاﺅ گے۔(الفتح ۲۲۔۳۲)
ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے خدائی میں ان چیزوں کو شریک کرلیا ہے جن کو خدا نے کوئی تمکن نہیں بخشا ہے۔(آل عمران ۱۵۱)
اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص خدا کی طرف سے لڑتا ہے اس کے ساتھ خدائی طاقت ہوتی ہے اور جس کے ساتھ خدائی طاقت ہو اس کے مقابلہ میں کسی کا زور چل ہی نہیں سکتا۔
یہ اس لےے کہ ایمان داروں کا مددگار تو اللہ ہے اور کافروں کا مددگار کوئی نہیں۔ جب تو نے تیر پھینکا تو وہ تونے نہیں پھینکا بلکہ خدا نے پھینکا۔(انفال۷۱)
یہ تو مومن صالح کی سطوت کا حال ہے۔ دوسری طرف یہ بھی خدا کا قانون ہے کہ جو شخص ایمان دار ہوتا ہے‘ جس کی سیرت پاکیزہ ہوتی ہے جس کے اعمال نفسانیت کی آلودگیوں سے پاک ہوتے ہیں‘ جو نفس اور اغراض نفس کے بجائے خدا کے مقرر کےے ہوئے قانون کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرتا ہے‘ اس کی محبت دلوں میں بیٹھ جاتی ہے‘ دل آپ ہی آپ اس کی طرف کھنچنے لگتے ہیں ‘ نگاہیں اس کی طرف احترام سے اٹھتی ہیں معاملات میں اس پر اعتماد کیا جاتا ہے‘ دوست تو دوست دشمن تک اس کو صادق سمجھتے ہیں اور اس کے عدل‘ اس کی عفت اور اس کی وفا شعاری پر بھروسہ کرتے ہیں۔
جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کےے‘ اللہ ان کی محبت دلوں میں ڈال دے گا (مریم ۶۹)
ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کے ساتھ جمادیتا ہے‘ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی (ابراہیم ۷۲)
جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور اس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو تو ہم ضرور اس کو بہترین زندگی بسر کرائیں گے اور ان بہترین اعمال کا اجر دیں گے جو وہ کرتے رہے(النحل ۷۹)
مگر یہ سب کس چیز کے نتائج ہیں؟ محض زبان سے لا الہ اللہ کہنے کے نہیں‘ مسلمانوں کے سے نام رکھ لینے اور معاشرت کے چند مخصوص اطوار اختیار کرنے اور چند گنی چنی رسمیات ادا کرلینے کے نہیں۔ قرآن حکیم ان نتائج کے ظہور کے لےے ایمان اور عمل صالح کی شرط لگاتا ہے۔ اس کا منشا یہ ہے کہ لا الہ الااللہ کی حقیقت تمہارے قلب و روح میں اس قدر جاگزیں ہوجائے کہ تمہارے تخیلات و افکار اور اخلاق و معاملات سب پر اسی کا غلبہ ہو‘ تمہاری ساری زندگی اسی کلمبہ طیبہ کے معنوی قالب میں ڈھل جائے‘ تمہارے ذہن میں کوئی ایسا خیال راہ نہ پاسکے جو اس کلمہ کے معنی سے مختلف ہو اور تم سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جو اس کلمہ کے متقضی کے خلاف ہو۔ لا الہ الااللہ کو زبان سے ادا کرنے کے نتیجہ یہ ہونا چاہےے کہ تمہاری زندگی میں اس کے ساتھ ایک انقلاب برپا ہوجائے۔ تمہاری رگ رگ میں تقویٰ کی روح سرایت کرجائے۔ اللہ کے سوا تمہاری گردن کسی طاقت کے آگے نہ جھکے۔ اللہ کے سوا تمہارا ہاتھ کسی کے آگے نہ پھیلے۔ اللہ کے سوا کسی کا خوف تمہارے دل میں نہ رہے۔ تمہاری محبت اور تمہارا بغض اللہ کے سوا کسی اور کے لےے نہ ہو۔ اللہ کے قانون کے سوا تمہاری زندگی پر کسی اور کا قانون نافذ نہ ہو۔ تم اپنے نفس اور اس کی ساری خواہشوں اور اس کے تمام مرغوبات و محبوبات کو اللہ کی خوشنودی پر قربان کردینے کے لےے ہر وقت تیار رہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلہ میں تمہارے پاس سمعنا و اطمعنا کے سوا کوئی اور قول و فعل نہ ہو۔ جب ایسا ہوگا تو تمہاری قوت صرف تمہارے اپنے نفس اور جسم کی قوت نہ ہو گی بلکہ اس احکم الحاکمین کی قوت ہوگی جس کے آگے زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً و کرہاً سربسجود ہے اور تمہاری ذات اس نور السموات والارض کے جلووں سے منور ہوجائے گی جو تمام عالم کا حقیقی محبوب و معشوق ہے۔
نبی کریم صلی اللہ وعلیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے عہد میں یہی چیز مسلمانوں کو حاصل تھی۔ پھر اس کا نتیجہ جو کچھ ہوا‘ تاریخ کے اوراق اس پر شاہد ہیں اس زمانہ میں جس نے لا الہ الاللہ کہا اس کی کایاپلٹ گئی۔ مس خام سے یکایک وہ کندن بن گیا۔ اس کی ذات میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ دل ا س کی طرف کھینچنے لگے۔ اس پر جس کی نظر پڑتی وہ محسوس کرتا کہ گویا تقویٰ اور پاکیزگی اور صداقت کو مجسم دیکھ رہا ہے۔ وہ ان پڑھ‘ مفلس‘ فاقہ کش‘ پشمینہ پوش اور بوریا نشین ہوتا‘ مگر پھر بھی اس کی ہیبت دلوں میں ایسی بیٹھتی کہ بڑے بڑے شان و شوکت والے فرماں رواﺅںکو نصیب نہ تھی۔ ایک مسلمان کا وجود گویا ایک چراغ تھا کہ جدھر وہ جاتا اس کی روشنی اطراف اکناف میں پھیل جاتی اور اس چراغ سے سینکڑوں ہزاروں چراغ روشن ہوجاتے۔ پھر جو اس روشنی کو قبول نہ کرتا اور اس سے ٹکرانے کی جرا<!–[if !supportFootnotes]–>
<!–[endif]–>¿ت کرتا تو اس کو جلانے اور فنا کردینے کی قوت بھی اس میں موجود تھی۔
ایسی ہی قوت ایمانی اور طاقت و سیرت رکھنے والے مسلمان تھے کہ جب وہ ساڑھے تین سو سے زیادہ نہ تھے تو انہوں نے تمام عرب کو مقابلہ کا چیلنج دے دیا۔ اور جب وہ چند لاکھ کی تعداد کو پہنچے تو ساری دنیا کو مسخر کرلینے کے عزم سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جو قوت ان کے مقابلہ پر آئی پاش پاش ہوگئی۔
جیسا کہ کہا جاچکا ہے مسلمانوں کی اصلی طاقت یہی ایمان اور سیرت صالحہ ہے‘ طاقت ہے جو صرف ایک لا الہ الا اللہ کی حقیقت دل میں بیٹھ جانے سے حاصل ہوتی ہے لیکن اگر یہ حقیقت دل میں جازیں نہ ہو ‘ محض زبان پر یہ
not complete